18 مارچ 2010 - 20:30

صہیونی ریاست کے وزیراعظم بنیامین نتنیاہونے کہا ہے کہ ان کی ریاست بیت المقدس کے کسی بھی علاقے سے پیچھے نہيں ہٹے گی اوریہ پورا شہر اسرائیل کے قبضے میں باقی رہے گا ۔

 صہیونی ریاست کے وزیراعظم کے اس بیان نے ایک بارپھر صہیونی ریاست یکی غاصبانہ اورتسلط پسندانہ ماہیت کواجاگرکردیا ہے ۔ بنیامین نتنیاہونے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق صہیونی ریاست کوبیت المقدس کے تمام علاقوں سے خاص طورپرمجموعی طورپرسبھی مقبوضہ علاقوں سے پیچھے ہٹنے کا پابند بنا یا گیاہے ۔ بیت المقدس کا صہیونی ریاست کی توسیع اورتسلط پسندانہ پالیسیوں میں ایک خاص مقام ہے اس نے اسی لئے انیس اڑتالیس میں مغربی بیت المقدس پرقبضہ کرلیا ۔ صہیونی ریاست نے اس کے بعد انیس سوسڑسٹھ میں مشرقی بیت المقدس پربھی قبضہ کرلیا ۔ صہیونی ریاست نے بیت المقدس پراپنا قبضہ مستحکم کرنے کے لئے اس شہر سے اسلامی اورفلسطینی آثاروعلامتوں کوایک ایک کرکے مٹانا شروع کردیاہے اس سلسلے میں اس نے فلسطین کے ديگرعلاقوں کی ہی طرح بیت المقدس میں بھی صہیونی بستیوں کی بڑے پیمانے پرتعمیرکرکے علاقے میں آبادی کے تناسب کوبگاڑنے اورفلسطینیوں کی آبادی کوصہیونیوں کے مقابلے میں کم کرنے کی کوشش کررہی ہے اس سلسلے ميں اس نے فلسطینیوں کوان کے گھروں سے بے گھرکرنے کی پالیسی بھی اپنا رکھی ہے اوراسلامی مقامات کونابود کرنے پرکمربستہ ہے ۔ بیت المقدس میں صہیونی ریاست کے اس طرح کے توسیع پسندانہ اقدامات کوعالمی سطح پرتنقیدوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ عرب لیگ کے سکریٹری جنرل عمروموسی اورخلیج فارس تعاون کونسل کے سربراہ عبدالرحمن العطیہ نے بھی بیت المقدس ميں صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ اقدامات کی مذمت کی ہے اس صورت حال میں عالمی رائےعامہ کویہ توقع ہے کہ اقوام متحدہ صہیونی ریاست کے خلاف ایک ٹھوس اقدام کرکے اس کواپنی قراردادوں پرعمل کرنے کے لئے مجبورکرے گی تاکہ فلسطینی علاقوں منجملہ بیت المقدس پرغاصب صہیونیوں کا قـبضہ ختم ہوسکے