رپورٹ کے مطابق دھماکا خودکش نہیں تھا بلکہ اسے ٹیلے فونک ریموٹ کنٹرول آلے کی مدد سے کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والا بارود ایسا تھا جو پچھلے دو دھماکوں میں استعمال ہوا۔
کراچی میں یوم عاشور کے جلوس میں بم دھماکے کے الزام میں گرفتار چھ ملزمان کو سٹی کورٹ میں پیش کردیا گیا۔
تھانہ سٹی کورٹ کے تین گواہوں نے ملزمان کی شناخت کرلی۔آج نیوز کے مطابق سانحہ کراچی کے ملزمان کو عدالت میں پیش کردیا گیا ہے جہاں سٹی کورٹ کے تین گواہوں نے ملزمان کی شناخت کرلی ہے۔
واضح رہے کہ ایس ایس پی راجا عمر خطاب کی سربراہی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب کراچی کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے آٹھ افراد کو گرفتار کیاتھا۔
ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدمیاں محمد نوازشریف نے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے ہمراہ کراچی میں بولٹن مارکیٹ کا دورہ کیا۔
اس موقع پر نواز شریف نے تاجروں کے وفد سے ملاقات کی اورسانحہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ن لیگ کے قائد نے سانحہ کراچی کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
سانحہ کراچی میں ہلاک ہونے والوں کے انسانی اعضاء ڈی این اے کے لئے اسلام آباد روانہ کردیئے گئے۔ پولیس سرجن آفس کراچی کے مطابق عاشورہ محرم کے جلوس میں بم دھماکے کے بعد جائے حادثہ سے ملنے والے انسانی اعضاء سے چودہ نمونے ڈاکٹر عبدالقدیر خان لیب اسلام آباد روانہ کردیئے ہیں۔
سانحہ کراچی کے بعد آتش زدگی کے واقعات کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈائریکٹر ایف آئی اے میر زبیر کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں بولٹن مارکیٹ میں آگ لگانے کے لئے فاسفورس کیمیکل استعمال کئے جانے کے ثبوت ملے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے متعلق حتمی رپورٹ بدھ تک متعلقہ اعلٰی حکام کو پیش کردی جائے گی۔
انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے منتظم جج جسٹس امیر ہانی مسلم نے سانحہ کراچی کے بعد جلاوٴ گھیراوٴ کے الزام میں گرفتار پانچ ملزمان کو اے ٹی سی کے مقدمے سے رہا کردیا۔
پولیس نے سانحہ کراچی کے بعد گھیراوٴ جلاوٴ کے مقدمات میں گرفتار چودہ ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے منتظم جج جسٹس امیر ہانی مسلم کی عدالت میں پیش کیا جن میں سے پانچ ملزمان غلام عباس، محمد شفیق، محمد علی، خضرحیات اور ابراہیم کو عدالت نے دہشت گردی ایکٹ کے الزامات سے عدم ثبوت کی بنا پرضمانت پررہا کردیا تاہم دیگر مقدمات میں سیشن کورٹ سے ریمانڈ لینے کی ہدایت کی۔
عدالت نے پولیس کو آٹھ ملزمان عاصم علی، روبان، اقرارحسین، سید لیہاز حسین، آصف حسین، محمد عادل، افتخار، اکبرشاہ کو نو جنوری تک ریمانڈ پرپولیس کے حوالے کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ان ملزمان کا طبی معائنہ کراکر رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ جبکہ ان میں سے چار ملزمان روبان، اقرارحسین، سیدلیہازحسین، آصف اورذیشان کو تیرہ سی کے مقدمے میں چھ جنوری تک ریمانڈ پرپولیس کے حوالے کردیا۔
ـــ
عجیب بات یہ ہے کہ دہشت گردی اور دھماکے کے الزام میں گرفتار ملزموں کا نام و نشان نہیں بتایا گیا ہے اور جن لوگوں کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیا گیا ہے ان کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے!!!
ـــ
وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی میں عاشورہ جلوس میں ہونے والا دھماکا خودکش نہیں تھا، اس حوالے سے نوے فیصد حقائق سامنے آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کراچی میں سٹی گورنمنٹ کی کوتاہی نہیں ہے، پورے ملک میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا کوئی انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ رینجرز پولیس کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے، انہیں گولی چلانے کا اختیار نہیں ۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی کے واقعہ میں کسی نے تو کرایا ہے ، میں کسی کانام نہیں لونگا، مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد سانحہ کراچی میں ملوث تھے۔ دہشت گردی کرنے والے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا!