صدرآصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سیاسی اداکار حکومت کے خلاف کام کررہے ہیں۔فوجی آپریشن پر فوج اور سویلین لیڈر شپ کے درمیان ہم آہنگی ہے۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی رائے کو ہمیشہ سنا گیا اور توجہ دی گئی ہے۔
اپنے ایک انٹرویو میں صدرآصف علی زرداری نے کہا کہ میں نے اپنی تقریر میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کوواضح کیا ہے جس کا انہوں نے عاشورہ کے جلوس میں دھماکا کرکے جواب دیا ہے۔ سیاسی طاقتیں چاہتی ہیں کہ آئی ایس آئی سویلین کنڑول میں ہو لیکن فی الحال آئی ایس آئی کوسویلین کنٹرول میں دینے کا معاملہ روک دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ ایک ذہنیت کا نام ہے جو مختلف طریقوں سے کام کرتی ہے۔ اسٹیلشمنٹ کبھی لغاری اور کبھی روئیداد خان کی شکل میں ظاہرہوتی ہے۔ انٹرویو کے دوران اینکر کے سوال کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ؟ کے جواب میں صدر زرداری نے کہا کہ دنیا میں سربراہ مملکت کئی قتل ہوئے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ میری سکیورٹی وفاق کے سربراہ کے طور پرکی جارہی ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اپوزیشن میرے ساتھ فرینڈلی ہے۔ان کا کہناتھا کہ میرے نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ میں بے نظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار بیت اللہ محسود کو سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں ایم آرڈی کی تحریک کے دوران سندھ کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر معافی چاہتا ہوں۔ریاست کے سربراہ کے طور پربھٹو کے قتل پر عوام سے معافی کا خواست گار ہوں اور اگر کسی صوبے کے ساتھ زیادتی ہوئی تو سربراہ مملکت کے طور پر معافی چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کا کنڑول صوبوں کو دینا نئے سال کا تحفہ ہے۔صدر زرداری نے اس امید کااظہار کیا کہ 90دن میں بلدیاتی انتخابات ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ این آر او پر تفصیلی فیصلہ آنے پر حکومت کارروائی کرے گی۔ صدر نے کہا کہ میرے پاس سیاسی ہتھیار ہیں ، وقت اور ضرورت کے وقت استعمال کروں گا۔