15 جون 2009 - 19:30

اس سال عاشور کے روز عزاداری کے دستوں پر حملہ کرنے والے نائیجیریائی نوجوانوں نے شیعیان نائیجیریا کے قائد کے حضور اپنے شنیع عمل سے ندامت کا اظہار کرتے ہوئے توبہ کرلی ہے.

اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ عاشورا کے روز بعض نائیجیریائی نوجوانوں نے وہابیوں کے اکسانے اور حکومت کے زیر حمایت شیعیان اہل بیت (ع) کے ماتمی دستوں پر حملہ کیا تھا اور جنہوں نے حال ہی میں قائد شیعیان نائیجیریا «شیخ ابراہیم زکزاکی» کے دفتر میں حاضر ہوکر اپنے عمل سے پشیمانی کا اظہار کرتے ہوئے توبہ کرلی ہے اور شیخ زکزاکی سے معذرت کرکے عفو و درگذر کی درخواست کی ہے.

توبہ کرنے والے نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والے نوجوان نے شیخ زکزاکی سے ملاقات کے دوران کہا: ہم گذشتہ محرم میں اپنے کئے ہوئے اعمال سے نادم ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مستقبل میں کبھی بھی اس طرح کے اعمال سرانجام نہیں دیں گے.

تیس سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے سربراہ نے کہا: شیعیان نائیجیریا کے ساتھ ہماری اس ملاقات کا واحد مقصد ندامت کا اظہار تھا اور ہمیں حکومت اور بعض دیگر افراد نے لالچ دے کر ماتمی دستوں پر حملے پر اکسایا تھا!

شیخ ابراہیم زکزاکی نے نادم نوجوانوں کا موقف سننے کے بعد ان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ "تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو ـ Divide and Rule ـ " دشمن کی دائمی اور ابدی حکمت عملی ہے اور وہ قوموں کو پر اپنا تسلط جمانے کے لئے اس حکمت عملی سے استفادہ کرتے ہیں؛ حکمران اور ارباب اقتدار بھی کبھی کبھار یہ استعماری روش بروئے کار لاتے ہیں؛ اور ان کی کوشش رہتی ہے کہ عوام کا ایک طبقہ ہمیشہ غریب اور محتاج رہے اور ارباب اقتدار اسی طبقے کے ہاتھوں اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کراتے ہیں.

شیخ زکزاکی نے دشمنوں کے منصوبوں کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا: تاریخ کے مختلف ادوار کے دوران دشمنوں نے اس حقیقت کا ادراک کرلیا ہے کہ وہ مسلمانوں پر صرف اسی صورت میں مسلط ہوسکتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کو نیست و نابود کریں اور مسلمانوں کو دینی احکام و قوانین کے مطابق جینے سے روک لیں. چنانچہ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان قرآن کی تلاوت کرتے ہیں لیکن قرآن کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے.

شیخ زکزاکی نے کہا: دشمنوں کی مسلسل کوشش رہتی ہے کہ اتحاد و یکجہتی کو مسلمانوں کے معاشرے سے سلب کردیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی ہزاروں مسجدیں ہیں اور نماز جمعہ اتحاد مسلمین کا مظہر ہے مگر مسلمان ایک ہی مسجد میں اکٹھے ہوکر نماز نہیں ادا کرتے اور ہر مسجد میں الگ الگ نماز ادا کی جاتی ہے.

جناب زکزاکی نے اپنے دفتر میں حاضر نوجوانوں کو خبردار کیا کہ تخریب کاری، تباہی و بربادی، چوری اور ڈاکہ زنی اور قتل و غارت اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں ہیں لہذا ان اعمال سے پرہیز کریں.

انھوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ کسی بھی کام سے قبل سوچا کریں کیوںکہ ہمیں اگلی دنیا میں اپنے تمام اعمال کا جواب دینا ہے.

قابل ذکر ہے کہ اس سال (1430 ہجری) کے ماہ محرم کے روز عاشور کو نائیجیریا کے شہر "زاریا" میں بعض جرائم پیشہ افراد اور نوجوانوں نے حکومت کی حمایت اور پولیس کی پشت پناہی میں عزاداران حسینی کے ایک دستے پر حملہ کیا؛ اور اس حملے میں نواسۂ رسول (ص) کے چار عزادار شہید ہوئے؛ انھوں نے بعد ازاں شیعہ راہنما "شیخ حمیدو" کی رہائشگاہ پر حملہ کرکے اسے نذر آتش کیا؛ علاوہ ازیں "کادونا" پولیس کے ایک اہلکار «تمباری یابو محمد» نے فوجی اہلکاروں سے بھرا ٹرک لے کر شیخ زکزاکی کے گھر پر ہلہ بول دیا. 

یاد رہے کہ افریقی ملک نائیجیریا میں اہل تشیع کی آبادی 70 لاکھ ہے اور نائیجیریا کی حکومت اسرائیل، امریکہ اور تشدد پسند وہابیوں کی مدد سے اہل تشیع کے دینی اعمال و مراسمات اور ان کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے خاتمے کے لئے وسیع سطح پر سرگرم عمل ہیں اور ان کا آخری شیعہ مخالف حربہ گذشتہ ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعے کو یوم القدس کے جلوس پر تشدد پسندانہ حملے سے عبارت تھا جس کے نتیجے میں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں اور مسلمانوں کے قبلۂ اول کی حمایت کرنے والے روزہ دار مظاہرین میں سے کئی افراد نے جام شہادت نوش کیا۔

علاوہ ازیں ماہ رمضان کے آخری دنوں میں شیخ ابراہیم زکزاکی پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ تھا؛ اس حملے کے لئے ابتدائی مقدمات کی فراہمی کی ذمہ داری تشدد اور دہشت گردی کی ترویج میں پیش پیش وہابی مولویوں نے اپنے ذمے لی تھی اور منصوبہ یہ تھا کہ سرکاری فورسز شیخ زکزاکی پر حملہ کرکے انہیں قتل کردیں گی مگر یہ سازش امریکی سفارتخانے کا ایک خفیہ خط منظر عام پر آنے کی وجہ سے قبل از وقت فاش ہوگئی.