15 جون 2009 - 19:30

اسلامی کانفرنس تنظیم کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوغلو نے یمن کی ارضی سالمیت کی حمایت کرتے ہوۓ اس ملک کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اکمل الدین احسان اوغلو نے اپنے دورۂ صنعا کے موقع پر نقل مکانی پر مجبور افراد کے لۓ پناہ گزین کیمپوں کی تعمیر کے سلسلے میں یمن کے حکام کے ساتھ مذاکرات کۓ ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ ایک پناہ گزیں کیمپ  پر یمن کی فوج کے حملے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگۓ ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یمن کے شمالی علاقوں میں پناہ گزینوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ واضح رہے کہ سن دو ہزار چار میں یمن کی حکومت اور الحوثی گروہ کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں ڈیڑھ لاکھ افراد نقل مکانی کی جبکہ بعض اعداد و شمار کے مطابق شمالی علاقوں میں جاری حالیہ جھڑپوں میں مزید پچیس سے پنتیس ہزار افراد اپنے گھروں کو چھوڑ چکے ہیں۔ یہ افراد ایسے پناہ گزیں کیمپوں میں رہ رہے ہیں جن میں زندگی کی بنیادی ترین ضروریات بھی میسر نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کیمپوں پر یمن کی فوج کے حملے جاری ہیں۔ السام پناہ گزیں کیمپ پر یمن کی فوج کے گزشتہ چند دنوں کے حملوں میں متعدد خواتین اور بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ عالمی ریڈ کراس نے بھی اس کے خلاف اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی تنظیم نے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے سلسلے میں کوئي ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے بلکہ صرف تشویش کے اظہار اور خبردار کرنے پر ہی اکتفاء کیا ہے ۔