اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الشرق الاوسط نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی یاوہ سرائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے لکھا ہے: "گذشتہ ہفتے رہبر انقلاب، صدر جمہوریہ، مراجع تقلید اور ایران کے علماء نے حج کے ایام میں ایرانیوں اور اہل تشیع کی توہین کے حوالے سے سعودی حکمرانوں کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد مشہد کے امام جمعہ اور خراسان میں رہبر کے نمائندی "احمد علم الہدی" نے مطالبہ کیا کہ قبلہ مکہ مکرمہ سے مشہد تبدیل کیا جائے"!!
الشرق الأوسط نے ایران کی خبر ایجنسی "فارس" کے حوالے سے لکھا ہے: علم الہدی نے کہا ہے کہ حجاز اور سعودی عرب نہیں بلکہ مشہد کو مسلمانوں کا قبلہ ہونا چاہئے کیونکہ مکہ سامراجیوں کے قبضے میں اسیر ہے!.

سعودی حکمرانوں سے وابستہ الشرق الاوسط نے مزید لکھا ہے: سعودی مملکت وہابیت کے اڈے میں تبدیل ہوگئی ہے اور جس طرح کہ عراق غاصب قوتوں کے وجود سے پاک ہوگئی ہے حجاز کو بھی غاصبوں سے پاک ہوجانا چاہئے اور موجودہ صورت حال میں مشہد مقدس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا جائے!!!
دوسری طرف سے شیخ عبدالعزیز آل الشیخ ـ جو سعودی عرب کا مفتی اعظم اور دارالافتاء کا سربراہ بھی ہے ـ نے کہا ہے کہ ایرانی حج کو اطاعت و عبادت کی بجائے باطل دعاؤں اور تباہ کن اہداف و مقاصد بیان کرنے کے مرکز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں!!
آل الشیخ نے الشرق الاوسط کو انٹرویو دیتے ہوئے ـ اس روزنامی کی رپورٹ کے بارے میں تحقیق کئے بغیر ـ کہا: یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے کہ مشہد کو قبلہ بنایا جائے کیونکہ رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ مکہ تا قیامت خدا کا حرم ہے اور قیامت تک مسلمانوں کا قبلہ رہے گا.
انھوں نے مشرکین سے بیزاری اور حج کے ایام میں امریکہ اور اسرائیل سے بیزاری کے بارے میں ایرانیوں کی اقدام کے بارے میں کہا: یہ عمل بنیادی طور پر باطل ہے اور برائت من المشرکین کے اجتماع میں گمراہ کن نعرے لگائے جاتے ہیں.
یادرہے کہ برائت من المشرکین سورہ توبہ کی پہلی آیت کی عملی شکل ہے اور اس میں "یا ایہا المسلمون اتحدوا اتحدوا"، الموت لآمریکا"، الموت لاسرائیل" جیسے نعرے لگائے جاتی ہیں جو آل الشیخ کے بقول گمراہ کن نعرے ہیں.
آل الشیخ اور دوسرے وہابی مفتیوں نے غزہ پر صہیونی یلغار کے وقت بھی اسرائیل کے خلاف مظاہروں کو حرام قرار دیا تھا اور اسرائیل کے خلاف اقدامات کو بھی گمراہ کن قرار دے کر اسلام دشمنی سے تعبیر کیا تھا.
بہرصورت اس وقت عالم اسلام میں اسلامی جمہوریہ ایران، انقلاب اسلامی کے رہبر معظم اور صدر جمہوریہ اسرائیل مخالف موقف کی وجہ سے مقبولیت کی عروج پر ہیں اور ہر سال حج کے ایام میں برائت من المشرکین کا اجتماع تمام اسلامی ممالک کے حجاج کرام کی موجودگی میں منعقد ہوتا ہے.
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیائے اسلام میں ایران کی مقبولیت وہابی مفتیوں اور غیر منتخب اور اسرائیل نواز عرب حکمرانوں کے حسد کا باعث ہے جس کی وجہ سے وہابیت سے وابستہ ذرائع ابلاغ کو جھوٹے پروپیگنڈے اڑانے اور وہابی مفتیوں کو غیر اصولی اور نامعقول پروپیگنڈوں کی بنیاد پر غلط فتوے دینے کا اہتمام کرنا پڑ رہا ہے گوکہ عالم اسلام کے عوام جب اس طرح کے فتوی دیکھتے ہیں تو ان کے محرکات اور اہداف و مقاصد کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں اور مواصلات کے اس دور میں کوئی کسی کو تحقیق سے روک نہیں سکتا.
فاعتبروا یا اولی الابصار...
یہاں ہم مشہد کے امام جمعہ کے خطبوں کی رپورٹ بھی لا رہے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ الشرق الاوسط کی رپورٹ اور نابینا وہابی مفتی آل الشیخ کا "شرعی فتوی" کس حد تک معتبر ہیں:

آیت اللہ سید احمد علم الہدی: اگر مشہد کو واقعی معنوی دارالحکومت بنانا ہے تو اس کی لئے مناسب بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جائے.
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مشہد کے امام جمعہ آیت اللہ سید احمد علم الہدی نے کل مشہد کی نماز جمعہ کے خطبوں میں لاکھوں نمازگزاروں اور زائرین حرم امام رضا (ع) سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ مشہد ایران اور عالم اسلام کا معنوی دارالحکومت ہو تو اس کے بنیادی ڈھانچے پر توجہ دینی پڑے گی اور امت اسلامی کی عظمت کے تناسب سے اس شہر کے لئے سہولیات فراہم کرنی پڑیں گی.
انھوں نے کہا کہ حجاز اس وقت وہابیت کے ہاتھوں میں اسیر ہے اور عراق پر کفار کا قبضہ ہے جبکہ مشہد مقدس اس وقت آزاد ہے اور قُبّة الاسلام (1) قراردیئے جانے کی اہلیت رکھتا ہے، جہاں مسلمان اکٹھے ہوکر اپنے مسائل پر ازادانہ بحث کرسکتے ہیں.
انھوں نے کہا کہ قبل اس کے کہ ہم مشہد مقدس کو قبة الاسلام قرار دیں رسول اللہ (ص) اور ائمۂ طاہرین (ع) نے اس شہر کو قبة الاسلام قرار دیا ہے.
انھوں نے کہا کہ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ مشہد ایران اور عالم اسلام کا معنوی دارالحکومت ہو تو اس کے بنیادی ڈھانچے پر توجہ دینی پڑے گی اور امت اسلامی کی عظمت کے تناسب سے اس شہر کے لئے سہولیات فراہم کرنی پڑیں گی چنانچہ پارلیمان کے نمائندوں اور مکتبی حکومت اور ولایت کے معتقد صدر جمہوریہ کو چاہئے کہ اس سلسلے میں ضروری پالیسی سازی کریں.
انھوں نے کہا کہ ہر سال آٹھ لاکھ بیرونی زائرین اور دو کروڑ ایرانی زائرین مشہد مقدس آتے ہیں جن کے لئے الگ منصوبہ بندی اور ثقافت سازی کی ضرورت ہے.
___
1- قبۃ الاسلام (Dome of Islam) اور قبلۃ الاسلام (مسلمانوں کے استقبال کا مقام جسے محجّہ بهی کہا جاتا ہے جہاں مسلمان حج بجالاتے ہیں) میں فرق بالکل واضح ہے. شام کے رہنے والے دمشق کو قبۃ الاسلام قراردیتے ہیں. عراقی بصرہ کو قبۃ الاسلام کا نام دیتے ہیں؛ حدیث میں مدینہ منورہ کو قبۃ الاسلام کا نام دیا گیا ہے. متعدد احادیث میں مسجد الحرام، مسجد النبی (ص)، کربلا میں حرم نواسۂ رسول (ص)، مسجد کوفہ کو بھی قبۃ الاسلام قرار دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قبہ کا مطلب ہرگز قبلہ نہیں ہے اور سعودی عرب میں بھی مدینہ کو ہی قبة الاسلام کہا جاتا ہے جو مسلمانوں کا قبلہ تصور نہیں ہوتا بلکہ کعبہ قبلۂ مسلمین ہے اور بس؛ اور جو کوئی اس کا انکار کرے اس کے کفر کے بارے میں سنی مصادر و منابع سمیت شیعہ منابع و مصادر کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے.
هر سال لاکھوں شیعہ حجاج کرام مکه مشرف ہوتے ہیں اور حج بجالاتے ہیں اور قرآنی حکم کے مطابق استطاعت رکهنے والے افراد پر حج بیت الله کی بجاآوری واجب ہے اور شیعہ عقائد کے مطابق مکہ اور کعبہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو کہیں اور منتقل کیا جاسکے اور پھر ہمیں تاریخ میں بھی کہیں یہ نظر نہیں آتا کہ کسی شیعہ حکمران نے مکہ اور مسجدالحرام اور خانۂ کعبہ کی بے حرمتی کی ہو جبکہ وہابیت کے خلفاء یعنی یزید بن معاویہ اور عبدالملک بن مروان کے زمانے میں کعبہ کو منجنیقوں کے ذریعے منہدم کیا گیا. جبکہ شیعہ تاریخ میں آپ کو ائمۂ معصومین حالت طواف میں ملیں گے. حتی امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ ال