تین ہزار سے زائد جوان اس میں حصہ لے رہے ہیں، کلادن کے علاقے میں کارروائی کے دوران دو پاکستانی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ دونوں کا تعلق ماشکیل سے ہے اور وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے سرحد پار گئے تھے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ مذکورہ افراد کو انقلابی گارڈز پر خودکش حملے میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے اور ان کا تعلق جنداللہ سے ہے۔

اسے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ وہ جنداللہ کے خلاف ہمسایہ ملک پاکستان کی سرزمین پر جاکر کارروائی کرنا چاہتی ہے۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاک پور نے ایک انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ خودکش حملے کے ملزمان کی حوالگی کیلئے پاکستان پر دباوٴ ڈالا جائے یا پھر دہشت گردوں کا صفایا کرنے کیلئے ایرانی فورسز کو پاکستان میں کارروائی کی اجازت دی جائے۔
یاد رہے کا سرباز شہر کے نزدیک پیشین کے علاقے میں ہونے والے دہشت گردوں کے خودکش حملے میں نمائش میں موجود چار پاکستانی شہری بھی جان بحق ہوگئے ہیں اور سرکار اعداد و شمار کے مطابق شہداء کی کل تعداد 41 ہے جن میں 37 افراد ایرانی شہری ہیں.انہوں نے مزید کہا کہ فوجی دستے دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کیلئے تیار ہیں لیکن اس کیلئے وزارت خارجہ کی اجازت درکار ہے۔---ابنا کی وضاحت:کسی بھی ملک کی افواج کسی اور ملک میں کاروائی کے لئے اپنے ملک کی وزارت خارجہ سے رابطہ کرتی ہیں اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وزارت خارجہ اس ملک سے رابطہ کرے اور وہاں کی حکومت سے کاروائی کی اجازت لے تا کہ کاروائی قانونی جواز پر مبنی ہو اور اس ملک کے خلاف جارحیت کے زمرے میں نہ آئے خاص طور پر اگر وہ ملک دوست ملک ہو اور یہاں بھی پاسداران انقلاب اسلامی نے اسی مقصد سے اپنی وزارت خارجہ سے پاکستان میں دہشت گردوں کے اڈوں پر حملے کی اجازت مانگی ہے اور یہ درحقیقت حکومت پاکستان سے اجازت مانگنے کے مترادف ہے کیونکہ جمہوری ممالک میں افواج مستقل طور پر براہ راست کسی ملک کے ساتھ بحیثیت فریق رابطہ نہیں کرسکتیں.
بشکریہ از عالمی اخبار