15 جون 2009 - 19:30

کیری لوگر بل اور میک کرسٹل رپورٹ مکمل طور پر پاکستان کی سلامتی، قومی غیرت و حمیت اور سکیورٹی کے منافی ہے۔

مسلح افواج کے سابق اعلی افسران و جوانوں کی ملک گیر تنظیم پاکستان ایکس سروس مین ایسوسی ایشن نے جی ایچ کیو حملے کو پاک فوج کی طرف سے کیری لوگر بل کی مخالفت کا ممکنہ رد عمل قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیری لوگر بل اور میک کرسٹل رپورٹ مکمل طور پر پاکستان کی سلامتی، قومی غیرت و حمیت اور سکیورٹی کے منافی ہے۔ پاکستان پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آئینی حل تلاش کرتے ہوئے عوامی امنگوں اور ضمیر کے مطابق فوری فیصلہ کرے۔ وفاقی دار الحکومت میں بلیک واٹر ،ایکس ای،ڈائن کارپ،انٹررسک اور سپیڈ فلو سمیت تمام غیر ملکی ایجنسیوں کی سر گرمیوں کو روکا جائے اور ان کی تمام نقل و حرکت کو سختی سے مانیٹر کیا جائے۔ ان خیالا ت کا اظہار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈمرل(ر)فصیح بخاری نے ہفتہ کے روز بریگیڈیئر(ر)محمود کی رہائشگاہ پر تنظیمی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر آئی ایس آئی کے سابق سر براہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل ،بریگیڈیئر (ر) سلام اختر، میجر (ر) اسلام الحق، بریگیڈیئر (ر)خادم حسین بھی موجود تھے۔ ایڈمرل (ر)فصیح بخاری نے واضح طور پر کہا کہ ایسوسی ایشن نے کیری لوگر بل کو مسترد کر دیا ہے اور موجودہ شکل میں بل کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے ان حالات میں توقع ہے کہ قومی اسمبلی قومی امنگوں اور اپنے ضمیر کے مطابق بہتر اور فوری فیصلہ کرے گی لوگر بل کے ریویو کئے جانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر اس بل کو ریویو کیا گیا تو ہم بھی اس کو ریویو کر کے اپنا لائحہ عمل ترتیب دیں گے تاہم فوری طور پر ایسوسی ایشن نے سینئر اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی ہے جو امریکہ سے تعلقات کے معیار کے بارے میں اپنی رپورٹ حکومت کو بھجوائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کیری لوگر بل نے پوری قوم کو ایک بار پھر اکٹھا کر دیا ہے اور قومی مطالبہ ہے کہ حکومت امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی از سر نو تجدید کرے انہوں نے 122 میں کور کمانڈرز کا نفرنس میں لوگر بل پر تحفظات اور بلوچستان ہائی کورٹ کی طرف سے پرویز مشرف کے خلاف اکبر بگٹی قتل کیس کی ایف آئی آر درج کر نے کے فیصلے کی حمایت کی اور مطالبہ کیا کہ مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کا بھی فوری اطلاق کیا جائے۔

مختصر تبصرہ:

ایڈمرل فصیح بخاری کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ افواج پاکستان نے سنجیدگی کے ساتھ کیری لوگر بل کی مخالفت کی تھی اور یہ کہ پاکستانی دہشت گردوں کے ٹولے امریکی قوتوں کے آلۂ کار ہیں اور یہی ٹولے امریکیوں کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے بعض حساس مقامات پر حملی کرتے ہیں اور بالآخر یہ کہ دہشت گرد اسلام کو محض ایک پردے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور امریکہ مخالف نعرے اور بلیک واٹر اور دیگر بیرونی تنظیموں کے نکالنے کے مطالبے بھی محض اس اسرار آمیز کتاب کا سرورق ہیں اور اندر کی کہانی کچھ اور ہے؛ کیا خوب کہا ہے شاعر نے کہ:

واعظان کین جلوه در محراب و منبر می کنند

چون به خلوت می روند آن کار دیگر می کنند

واعظین جو محراب و منبر میں یہ سب جلوہ افروزیاں دکھاتے ہیں

جب دوسروں سے الگ ہوتے ہیں تو وہی دوسرا کام ہی انجام دیتے ہیں