واشنگٹن میں میڈیا سے بات چیت کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے ، پاکستان ذمہ دار ملک ہے اور افغانستان سمیت خطے میں امن اور خوشحالی چاہتاہے تاہم پاکستان کی سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہیں۔ امریکی صدراوباما اور امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پاکستان سے دوستی کے خواہش مند ہیں۔ امریکا پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے۔ کیری لوگر بل کے ذریعے پاکستان اور امریکا کے تعلقات مضبوط ہونگے۔
دوسری طرف سے وزیر اعظم گیلانی نے پارلیمنٹ میں اپنے چیمبر میں سندھ سے پیپلز پارٹی کے اراکین سے ملاقات میں کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام اراکین کیر ی لوگر بل پر کھل کر بحث میں حصہ لیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ اس وقت پاکستان مختلف بحرانوں کا شکار ہے اور اگر یہ امداد معطل کی گئی تو ملک کا نقصان بھی ہو سکتا ہے اس موقع پر بلوچستان کے حوالے سے آئینی پیکج اور ملک کو در پیش دیگر امور زیر غور آئے۔ وزیراعظم نے پی پی پی کے اراکین کو بلوچستان کے حوالے سے آئینی پیکج پر تفصیلی طور پر بریف کیا۔ ملاقات میں سوات اور مالا کنڈ کے علاوہ دیگر معاملات بھی زیر غور آئے۔