15 جون 2009 - 19:30

بل کو آج قومی اسمبلی میں بحث کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

امریکی صدر بارک اوباما نے پاکستان میں کیری لوگربل سے متعلق تحفظات کے بعد اس بل پر دستخط موخر کردیئے ہیں۔واضح رہے کہ کیری لوگر بل کو آج قومی اسمبلی میں بحث کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ اس بل پر بحث کیلئے مسلم لیگ ن کی جانب سے گذشتہ روز تحریک التواء پیش کی گئی تھی۔ اس بل کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے مختلف موقف سامنے آرہے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے ملک کی سلامتی کو گروی رکھ دیا گیا ہے تو کچھ کو اعتراض اس بات پر ہے کہ کیری لوگر بل پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس بل کے تحت پاکستان کو 2014تک سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالرز غیر فوجی امداد کی مد میں دیے جائیں گے۔امریکی سینیٹ پہلے ہی کیری لوگربل کی منظوری دے چکی ہے۔  بل کو آج قومی اسمبلی میں بحث کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ اس بل پر بحث کیلئے مسلم لیگ ن کی جانب سے گذشتہ روز تحریک التواء پیش کی گئی تھی۔ امریکی صدر بارک اوباما کے دستخط کے بعد امداد کی پہلی قسط2010 میں جاری کی جائے گی۔ ہرسال اس امداد کیلئے کانگریس سے منظوری ضروری ہوگی۔ کیری لوگر بل کے تحت ملنے والی امداد مختلف ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہوسکے گی، جن میں اسکول، سڑکیں،زرعی منصوبے، توانائی کی پیداوار، آبی ذخائر کے انتظامات اورعدالتی نظام شامل ہیں ۔اوباما انتظامیہ کو اس قانون کے موثر ہونے کے 45دن کے اندرکانگریس میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنی ہوگی کہ وہ کن پروگرامز میں معاونت کیلئے فنڈز فراہم کرے گی اوران کی مانیٹرنگ کا کیا طریقہ کار ہوگا۔ اوباماحکومت کو اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ جن مقاصد کیلئے امداددی جارہی ہے، ان کے حصول کی طرف واضح پیش رفت ہوئی ہے۔ اوباما حکومت کو اختیار ہوگا کہ امدادکی رقم کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔ کیری لوگر بل کے تحت 2010میں 150ملین ڈالرز پولیس کی تربیت اور آلات کی فراہمی پر خرچ کرنے ہونگے۔ اوباماانتظامیہ کوسال میں دوبار کانگریس کو ان لوگوں اوراداروں کے ناموں کی فہرست پیش کرنی ہوگی جنہیں ایک لاکھ ڈالر سے زائد امداد دی گئی ۔ امداد وصول کرنے والوں کے ناموں کی فہرست کو میڈیا اور عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی قسم کی فوجی امداد، لازماًً سول حکومت کے ذریعے دی جائیگی۔ 2011 سے 2014 تک پاکستان کی غیر فوجی امداد ایٹمی عدم پھیلاؤ میں تعاون، دہشتگردی کیخلاف کارروائیوں کے تسلسل سے مشروط ہوگی۔ امداد کا تسلسل اس بات سے بھی مشروط ہوگا کہ فوج کی جانب سے سیاسی یا جمہوری عمل کی بساط نہیں الٹی جائے گی۔