
افغانستان کی جنگ کے سلسلے میں امریکی حکام کے درمیان اختلافات بدستور جاری ہیں امریکی صدر اوباما کی جانب سے افغانستان کے سلسلے میں طلب کی جانے والے ہنگامی اجلاس میں بھی خارجہ امور اور سیکورٹی کے مسائل میں صدراوباما کے مشیر افغانستان میں امریکی فوجیوں کے سلسلے میں کسی ایک موقف پر متحد نہ ہوسکے۔ اس نشست میں امریکی صدر نائب صدر وزیرجنگ اور وزیرخارجہ سمیت مختلف فوجی و سیکورٹی حکام موجود تھے۔ذرائع کے مطابق افغانستان میں فوج کی تعداد میں اضافے کے سلسلے میں امریکی حکام کے سلسلے میں اب بھی زبردست اختلافا ت موجود ہيں۔کچہ دنوں پہلے جنرل میک کریسٹل نے اپنی ایک رپورٹ میں تاکید کی تھی کہ افغانستان میں امریکی فوج میں اضافے کے بغیر جنگ افغانستان میں واشنگٹن کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔انھوں نے واشنگٹن سے افغانستان میں مزید تیس سے چالیس ہزار فوجیوں کی تعیناتی کامطالبہ کیا۔گذشتہ نو مہینوں کے دوران باراک اوباما نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد دوگنا بڑھا دی ہے اوراوباما اگر جنرل میک کرسیٹل کی درخواست منظور کرلیتے ہيں تو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زيادہ ہوجائے گی۔اس صورت میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جنازوں کی لائن لگ جائے گي اور امریکی ٹیکس دہندگان کا اربوں ڈالر جنگ افغانستان کیلئے خرچ ہوجائے گا۔اور اس کے بعد بھی اس جنگ میں کامیابی یقینی نظر نہيں آتی ان تمام مسائل کی وجہ سے اس وقت واشنگٹن اوباما کے برسراقتدار آنے کے بعد بھی ایک فیصلہ کن دوراہے پر کھڑ ا ہوا ہے۔اگر فوجیوں کی تعداد مسترد ہوجاتی ہے تو افغانستان میں امریکہ کی شکست یقینی ہوجائے گی اور اگریہ درخواست منظور ہوجاتی ہے تو جنگ ویتنام کا تلخ تجربہ ایک بارپھر ایک ایشیائی ملک میں دہرایا جائے گا اسی وجہ سے امریکہ میں اس مسئلے پر شگاف پایاجاتا ہے۔