فلسطینی انتظامیہ کے حکام نیویارک میں بلاۓ جانے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ ، فلسطینی انتظامیہ اور صہیونی حکام کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بارے میں خوش فہمی میں مبتلاء ہیں جبکہ صہیونی حکام اپنی توسیع پسندانہ اور تسلط پسندانہ پالیسیاں جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ سہ فریقی مذاکرات میں صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھے جانے کی تاکید کے بعد اس توسیع پسند ریاست کے صدر شیمون پرز نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ ریاست یہودی بستیوں کی تعمیر کو مکمل طور پر روکے جانے اور مشرقی بیت المقدس سے پسپائی کے مطالبے کو ہرگز تسلیم نہیں کرے گي۔ ان امور سے صہیونی ریاست کی توسیع پسندانہ اور امن دشمن ماہیت ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے ۔ صہیونی ریاست یہودی بستیوں کی تعمیر کے ذریعے فلسطینی علاقوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا چاہتی ہے تاکہ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہی نہ ہوسکے ۔ تجربے سے یہ ثابت ہوچکی ہے کہ صرف استقامت کے ذریعے ہی صہیونی ریاست کو مقبوضہ علاقوں سے پسپائي اور صہیونی بستیوں کی تعمیر کی روک تھام پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ صہیونی ریاست نے صہیونیت مخالف استقامت کے نتیجے میں ہی غزہ سے پسپائي اختیار کی اور غزہ میں قائم صہیونی بستیوں کو ختم کیا۔ اس سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ صہیونی ریاست کی توسیع پسندانہ اور غاصبانہ پالیسیوں کے مقابلے کے لۓ استقامت ہی بہترین آپشن ہے۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 167685
نیتن یاہو کے بعد شیمون پرز نے بھی زور دیا ہے کہ صہیونی ریاست یہودی بستیوں کی تعمیر کو مکمل طور پر روکے جانے اور مشرقی بیت المقدس سے پسپائی کا مطالبہ ہرگز تسلیم نہیں کرے گي۔