اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کوہاٹ میں ہنگو روڈ پر کچا پکا کے علاقے میں ایک ہوٹل کے قریب دہشت گردوں کے خودکش دھماکے میں 40 افراد شہید اور 80 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں،
بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کہنا ہے کہ دھماکا خودکش حملہ ہے۔ ایس ایچ او کچا پکا علی حسن کے مطابق سفید رنگ کی بارود سے بھری کار سڑک پر ایک گاڑی سے ٹکراگئی۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے ہوٹل اور قریبی دکانوں کو شدید نقصان پہنچا اور پچیس دکانیں اور بارہ گاڑیاں تباہ ہوگئیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں سے متعدد افراد کی حالت نازک ہے اور شہداء کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
دھماکے کے بعد مشتعل افراد نے پولیس کی گاڑیوں پرپتھراؤ کیا اور کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
دہشت گردوں کی طرف سے خودکش دھماکے کی جگہ پرچھوٹے چھوٹے دیہاتوں کو جانے والی بسوں کا اسٹاپ بھی ہے۔
شہید اور زخمی والوں میں بڑی تعداد اورکزئی ایجنسی میں کوئلے کے کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی ہے جو عید کے موقع پر اپنے گاؤں واپس جارہے تھے۔
خود کش دھماکے میں ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا جس سے ہوٹل کے رہائشی کمرے اور تیس دکانیں تباہ ہوگئیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچہ پکا کے مقامی بازار میں خودکش حملے کے بعد قریبی مکانات منہدم ہوگئے جبکہ منہدم مکانات کے نیچے تاحال لوگ دبے ہوئے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں مقامی آبادی نے بتایا ہے کہ انہیں کچھ عرصے سے طالبان سے دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔
ادھر عالمی اخبار ـ لندن کی رپورٹ کے مطابق لشکرِ جھنگوی العالمی نامی ایک تنظیم نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کے دفاتر میں فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ خود کو تنظیم کا ترجمان ظاہر کرنے والے عثمان حیدر نامی شخص نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ حملہ ان کی تنظیم کے اہم رہنما مولانا امین کی ہلاکت کا بدلہ ہے۔
یادرہے کہ دہشت گرد کمانڈر مولوی امین کچھ عرصہ قبل اورکزئی ایجنسی میں دہشت گردوں کے ایک اڈے پر پاک فوج کے طیاروں کی بمباری میں ہلاک ہوگیا تھا اور اب یہ بات سمجھنے کی ہے کہ افواج پاکستان کی کاروائیوں کا بدلہ اہل تشیع سے کیوں لیا جاتا ہے؟اس سے قبل متعدد بار ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازیخان میں اہل تشیع پر خودکش حملوں کے بعد بھی طالبان کے ترجمان نے کہا تھا کہ یہ حملے طالبان کے خلاف سرکاری کاروائیوں کے انتقام کے طور پر کئے گئے ہیں.