17 جنوری 2021 - 11:31
جنہوں نے خاندان رسالتؐ سے وفا نہیں کی ہمیں بھی ان سے وفا کی امید نہیں: مولانا سید حمیدالحسن تقوی

دفتر مقام معظم رہبری دہلی نو کی جانب سے امام باڑہ سبطین آباد میں دو روزہ عزائے فاطمیہ کی پہلی مجلس منعقد ہوئی ،کثیر تعداد میں علماء اور مومنین نے شریک ہوکر اظہار غم کیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفیٰؐ کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا ؐ کی شہادت کے المناک موقع پر ہر سال کی طرح امسال بھی دفتر مقام معظم رہبری دہلی نو کی جانب سے امام باڑہ سبطین آباد حضرت گنج لکھنؤ میں دو روزہ مجالس عزائے فاطمیہؐ کا انعقاد ہوا۔
اس سلسلے کی پہلی مجلس کو حجۃ الاسلام مولانا سید حمیدالحسن تقوی سربراہ جامعہ ناظمیہ لکھنؤ نے خطاب فرمایا۔ مولانا نے مجلس کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بعض افراد کا یہ دعویٰ کہ ہندوستان میں عزائے فاطمیہ کا آغاز انہوں نے کیاہے ،سراسر غلط ہے ۔کیونکہ لکھنؤ سمیت ہندوستان کے دیگر علاقوں میں ہمیشہ حضرت فاطمہ زہراؐ کی شہادت کے موقع پر مجالس کا اہتمام ہوتا آیا ہے ۔ہم نے ہمیشہ دیکھاہے کہ بی بیؐ کی شہادت کے موقع پر تابوت برآمد ہوتا تھا اور مجلسیں ہوتی تھیں ۔یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ قدیم سلسلہ ہے ۔یہ بات ضرور ہے کہ آج زیادہ اہتمام کے ساتھ عزائے فاطمیہ ؐ کا انعقاد ہورہاہے،جس میں دن بہ دن مزیداضافہ ہوناچاہئے ۔

مولانا نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل بیان کرتے ہوئے کہاکہ پیغمبرخداؐ نے فرمایاہے کہ فاطمہؐ میرا جزو بدن ہے ،جس نے فاطمہ ؐ کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف پہونچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہونچائی اس نے خدا کو تکلیف پہونچائی ۔مولانا نے کہا کہ محبت رسولؐ و آل رسولؑ روح اسلام ہے ۔جس طرح انسان کا اگر کوئی عضو بدن کٹ جائے تو ہم یہ نہیں کہتے کہ انسان مر گیاہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ فلاں عضو بدن اب اس انسان کے جسم کا حصہ نہیں ہے ۔اسی طرح تمام عبادات اور احکامات ’جسم اسلام ‘ کے اعضاء ہیں ،لیکن اگر محبت اہلبیتؑ نہیں ہے تو پھر ’جسم اسلام ‘ بے روح ہے ۔مولانانے کہاکہ ہم نے ہمیشہ ملک و قوم کے ساتھ وفاداری کی ہے ۔ہمارے علماء اور مراجع کرام بھی انہی کو دوست رکھتے ہیں جو ملک و قوم کے وفادار ہوتے ہیں یہ بات حکومت اور انتظامیہ کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے ۔مگر ہمیں ان سے بالکل وفاکی امید نہیں ہے جنہوں نے خاندان رسالتؑ سے وفاداری نہیں نبھائی۔مولانا نے آخر مجلس میں حضرت فاطمہ زہرا ؐ کے مصائب بیان فرمائے جنہیں سن کر خوب گریہ کیا۔مولانانے درمیان مجلس علامہ اقبال کی مثنوی کے اشعار کا بخوبی تجزیہ پیش کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲