اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بھارت کی جبرواستبداد اور جابرانہ تسلط کے خلاف کشمیری عوام کی انتھک جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 63 روز سے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کرفیو اور فورسز کی درندانہ کاروائیوں کے باوجود مظلوم قوم نے میدان عمل میں ڈٹ کر مزاحمت کی ایک شاندار تاریخ رقم کی ہے اور حکومت ہند کو یہ واضح پیغام دیا کہ طاقت کے بل پر کسی مظلوم قوم کی جائز جدوجہد کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم فی الوقت کربلائی صورتحال سے دوچار ہے۔ہزاروں لوگ اپنے مقتول لختہ ہائے جگر کے غم و ماتم سے نڑھال ہیں ، دسیوں ہزار گھرانے مہلک ہتھیاروں سے زخمی نوجوانوں کی تیمارداری میں مصروف اور آنکھوں کی بینائی سے محروم کئے گئے سینکڑوں جوانوں کے لواحقین کے دل و جگر مضروب ہیں۔ اس خونین صورتحال میں عید کی مصرتوں کو غم و ماتم میں تبدیل کیا ہے۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ عید انتہائی سادگی سے منائی جائے اور اپنے اردگرد حاجت مندوں اور ضرورتمندوں کا خاص خیال رکھا جائے۔
عید الاضحی کے اجتماعات کے موقعہ پر بھارتی جبروتسلط سے نجات اور شہداءکے بلند درجات کے ساتھ ساتھ زخمیوں کی شفایابی کیلئے اجتماعی دعاوں کا اہتمام کیا جائے۔آغا صاحب نے وادی کے طول و عرض میں نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کی وسیع کاروائیوں پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور نوجوانوں کو نام نہاد PSA کے تحت نظر بندیوں کو ریاستی حکومت کی انتقام گیر پالیسی کی ایک کڑی قرار دیا۔ انہوںنے کہا کہ اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو حکومت اس کے سنگین رد عمل کی منتظر رہے۔
آغا صاحب نے قائدحریت سید علی شاہ گیلانی کی پریس کانفرنس پر قدغن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قائد کی پریس کانفرنس پر قدغن سے ریاستی ارباب اقتدار کی اصل نیت اور انتقام گیر انہ چہرہ کھل کر سامنے آیا ہے۔ اس اقدام سے یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ ریاست میں کس حد تک آزادی اظہار پر قدغن ہے اور پریس کس حد تک آزاد ہے۔ انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے تنظیم کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی 63 روز سے مسلسل خانہ نظر بندی اور موصوف کی تمام سماجی و دینی سرگرمیوں پر مکمل قدغن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ آغا صاحب سرکردہ حریت لیڈر اور دینی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ مرکزی امام باڑہ بڈگام کے امام جمعہ بھی ہیں ۔
موصوف متواتر خانہ نظر بندی کے باعث نویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ کی پیشوائی کے فرائض انجام نہ دے سکے۔ترجمان نے عوام کو مطلع کیا کہ متحدہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام کے تحت عید الاضحی کے دن نماز عید ضلع ہیڈکوارٹرقصبہ بڈگام میں ادا کی جائے گی۔ ضلع بڈگام کے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ جوق در جوق نماز عید میں شرکت کریں اور بعد از نماز جلوس کی صورت میں UNO آفس سونہ وار کی طرف آغا حسن کی قیادت میں مارچ کیا جائے گا۔ ترجمان نے محمد یاسین ساکن خانپورہ کی گرفتاری کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے موصوف کی جلد رہائی کا مطالبہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲