9 ستمبر 2016 - 11:23
شیخ حسین ذاکری کے چہلم پر کرگل میں مجلس ترحیم کا انعقاد

مرحوم مغفور شیخ محمد حسین ذاکری علیہ رحمہ کے چہلم کے موقع پر امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے اہتمام سے جامع مسجد میں فاتحہ خوانی و مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بانی و سر پرست اعلی امام خمینی میموریل ٹرسٹ  وبانی مدسہ شہید مطہری ،قائد دلسوز ملت، عظیم روح کے حامل، قوم تبت کا علمبردار مرحوم شیخ محمد حسین ذاکری  علیہ رحمہ کی یاد میں چالیس دن تک کرگل خطہ کے مختلف شہر و دیہات میں مومنین و تنظیمات کی جانب سے  فاتحہ خوانی و مجالس ترحیم  جاری رہی  اور آج ان کی چالیسویں پر امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے اہتمام سے جامع مسجد میں فاتحہ خوانی ومجلس ترحیم برگذار ہوئی جس میں کرگل کے مختلف تنظیموں : اسلامیہ سکول ، انجمن صاحب الزمان ، انجمن مہدیہ ، انجمن مرکز تبلیغات  امام رضا ، انجمن صوفیہ نوربخشیہ ، جمعیت اہل حدیث کے صدور و سرپرست کے علاوہ امام جمعہ والجماعت اہلسنت کو دعوت دی تھی  ۔ مجلس صبح  10بجے فاتحہ خوانی کے بعد شروع ہوئی فاتحہ خوانی کے جلسہ میں شیخ عیسیٰ حافظی تلاوت فر ما رہے تھے مجلس کے شروع میں شیخ بشیر شاکر وائس چیرمین بسیج روحانیون نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوے مہمانوں کو خوش آمدید کہا  اس کے بعد حاجی حمید صدر انجمن اہل حدیث نے اپنی تقریر میں کہا شیخ محمد حسین ذاکری ہمارے معاشرہ  میں نہ صرف ایک زیرک و ہوشیار اور ددلسوز رہنما تھے بلکہ میں تو کہوں گا وہ ہمارے معاشرہ کا معمار تھا آج ان کے ہاتھوں تعمیر شدہ معاشرہ  ایک نمونہ کے طور اُبھر رہا ہے ۔ میں نے ان کو  ایک ایسا مدبر و دور اندیش ، دلسوز و ملنسار قائد پایا کہ جس کی مثال  میں نے اپنے خطہ میں نہیں دیکھا۔ مرحوم ذاکری قوم کی یکجہتی و اتحاد کے حامیوں میں سے تھا  انہوں نے کبھی کرگل میں مذہبی منافرت کو ہوا دینے والی کسی بھی اواز کو پنبنے نہیں دیا ۔ اس کے بعد سرپرست اعلیٰ سید جمال الدین الموسوی  نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں شیخ ذاکری مرحوم کی رحلت کو ایک ناقابل تلافی نقصان سمجھتاہو ں انہوں نے بہت ہی عظیم کارنامہ انجام دے کر گیا  اب اس کے تحفظ کیلئے  ہمت کی کمر باندھنا  اس میشن کے مسولین پر ہی نہیں بلکہ تمام  اہل کرگل پر لازم ہے ۔ ادارہ کرگل میں ہونا چاھیے  ، آج کے موجود د ادارے اسلامیہ سکول اور آئی کے ایم ٹی دونوں مضبوط ہونا چاھئے ۔ دونوں کی ترقی ہمارے کرگل کے فایدے میں ہے ۔ میں چاہتاہوں ادارے اپنی اپنی جگہ دونوں مضبوط کرئیں ۔ البتہ صلح  ضروری ہے اصلاح جامعہ کرگل کے حق میں ہے ۔ میں صلح کرکے رہوںگا  اگرچہ یہ صلح  میرے فایدے میں نہیں ہے  اس کیلئے  میں آخری دم تک کوشش کرتا رہوں گا ۔ اور مجھے اُمید قوی ہے کہ آخر کار صلح  کامیاب ہوکے رہیگا ۔ اس کے بعد سید کاظم صابری الموسوی نے خطاب کیا انہوں نے اوائل انقلاب کا ذکر کرتے ہوے کہا  شیخ ذاکری کی قیادت میں انقلاب کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے جلوس نکالا جاتا تھا  اور دھیرے دھیرے منظم طریقے سے ادارہ وجود میں لایا گیا اور آج اس قد ر پھلتے پھولتے ادارہ قوم کے نام کر کے گیا ہے  میں شیخ ذاکری کو خراج عقیدت کے طور کچھ بھی نہ پیش کروں تو اُن کا لکھا ہوا قصیدہ جو جناب سیدہ کونین کے حق میںہے کو واسطہ قرار دے کر ان کے لے جنت میں مقام علیا کا طلبگار رہوں گا ۔ اس کے بعد سرپرست اعلیٰ  انجمن صاحب الزمان سانکو سورو سید محمد المعروف میگی عود نے تقریر کرتے ہوے مرحوم شیخ ذاکری کونابغہ ویکتاے زمان  بتایا ۔ میگی عود نے کہا مرحوم شیخ  علیہ رحمہ نے ہماری قوم کو ایک مقام دیا ہے جس کی تحفظ ہم اور آپ کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے سکول کھولا ، ہسپتال کھولا، مکاتب کھولے ،اور مختلف سماجی امور کیلئے جوانوں کو یکجا کیا  یہ سب ان کا کا م تھا لیکن آپ کا کام ان کو بچانا اور آگے بڑھانا ہے ۔ اسکے بعد ایم ایل اے کرگل الحاج  اصغر علی کربلائی نے مرحو م کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوے قوم کے سامنے مرحوم کے مقام عظمیٰ کا  تذکرہ کیا اور کہا کہ آج چالیس دن تک شیخ ذاکری مرحوم علیہ رحمہ کی یاد میں قریہ قریہ گاوںگاوں، بلکہ محلہ محلہ دارالقرآنوں میں شہید مطہری سکولوں میں اور دیگر مقامات پر فاتحہ خوانی و مجلس ترحیم برگذار ہوئی کرگل سے باہر،لہہ ، نوبراہ کشمیر، جموں ، دہلی، حیدر آباد، قم ایران ، عراق نجف اشرف ، کربلاے معلا  میں بھی ان کی یاد میں مجالس فاتحہ خوانی ہئوئی بلکہ مشہد مقدس میں تو عراقی بسیجوں اور حرم امام رضا کے منتظمین کی جانب سے ایک بینر پر مرحوم ذاکری کی فوٹو چسپان تھی جس پر لکھا ہواتھا   (اشہد انک قد جاہدت فی سبیل اللہ حق جہادہ) یہ تھے مرحوم ذاکری علیہ رحمہْ میں ملت کرگل سے گزارش کرتا ہوں کہ آج بھی بیداری کی طرف ایک اور قدم بڑھا کر اپنی قوم کے تئیں قربانیاں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرئیں ۔ اسکے بعد چئر مین آئی کے ایم ٹی حجة الاسلام شیخ محمد حسین لطفی نے کہا کہ مرحوم شیخ ذاکری نے قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھایاہے قوم کو بصیرت و درد کی تعلیم دے کر گیا میں ملت کرگل سے بھر پو رتقاضاکرتاہوں کہ مرحوم کی دکھاے ہوے اس راہ پر چلنے کی کوشش کرئیں  آخر میں شیخ محمد محقق چئرمین نگران کونسل نے قوم کو دوبارہ اپنے دلسوز قائد کی یاد دلائی  انہوں نے پرنم آنکھوں کے ساتھ شیخ ذاکری کو اسطرح یاد کیا ، میں وہ زمانہ کھبی نہیں بھول سکتا ہوں کہ شیخ ذاکری ہمیشہ عین مشکلات میںسکون قلب کے ساتھ مسلہ کا حل نکالا کرتے تھے ،جنوری کے تھراتھراتے سردی ہو یا  جولائی کی  جھلسانے والی گرمی  شیخ ذاکری ہمہ وقت ہمارے ساتھ  آئی کے ایم ٹی ہیڈ آفس میں رہا کرتے تھے  میں  اپنا عقیدہ بتا رہا ہوں کہ  شیخ ذاکری کے  اندر دو  ایسی عظیم صفات تھی جن پر مولاء کونین کو  ناز تھا، ایک رحم اور ایک شجاعت  آخرمیں حاجی حسین جنرل سکریٹری  نے اظہار تشکر کیا اس مجلس کی نظامت وائس چیرمین مولانا کراری  فرما رہے تھے  مجلس امام جماعت شیخ حسین رجائی نے دعایہ کلمات کے ساتھ اختتام کو  پہونچائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲