اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے وزیراعظم بن علی ییلدریم نے کہا ہے کہ ان کی حکومت شام اور مصر کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے- ان کا کہنا تھا کہ ترکی کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں دوستی کو مضبوط بنانا اور اختلاف و دشمنی کو کم کرنا شامل ہے۔
واضح رہے کہ ترکی نے پچھلے چند ہفتے سے علاقے کے بعض ملکوں کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور اس نے روس سے اس کا جنگی طیارہ مارگرائے جانے کے واقعے پر معافی مانگ کر ماسکو کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بحال کر لئے ہیں۔ ترکی کے اس اقدام کا روس نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔
علاقے سے متعلق ترکی کی پالیسیوں میں تبدیلی ایک ایسے وقت آئی ہے کہ جب انقرہ شام کے بحران کے آغاز سے ہی شام کی قانونی حکومت کا سخت مخالف رہا ہے او اس نے شام میں سرگرم دہشت گردوں کی بھرپور حمایت کی ہے۔
دوسری جانب جولائی دو ہزار تیرہ میں مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کے خلاف فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کی بغاوت کے بعد انقرہ اور قاہرہ کے بھی تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں- ترکی جو ماضی میں یہ کہتا رہا ہے کہ شام میں بشار اسد کو بحیثییت صدر قبول نہیں کرتا، اب اس نے خود بشار اسد کے بارے میں بھی اپنا موقف نرم کر دیا ہے-
ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد جس میں ترک حکومت نے امریکا اور اس کے بعض علاقائی اتحادیوں کو ملوث قرار دیا ہے، انقرہ نے اپنی خارجہ پالیسی پر تیزی کے ساتھ نظرثانی کی ہے۔
.......
/169