اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اقوام متحدہ میں تعینات شام کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ تہران،ماسکو اور انقرہ کے درمیان تعلقات اور تعاون کے نئے موڑ کے آغازسے شام کے بحران کے خاتمے اور دہشتگردوں کے حوالے سے ترکی کے موقف میں تبدیلی کے لئے مدد ملے گی۔ یہ بات "بشار جعفری" نے ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تہران،ماسکو،انقرہ کے حکام کی سہ فریقی نشست شام کے حوالے سے انقرہ پالیسی میں تبدیلی کے لئے مثبت ثابت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں سے شام دہشتگردی کا شکار ہے اور ہم نے متعدد بار ترک حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگردوں کو شام میں داخل ہونے سے روکیں مگر اس حوالے سے کوئی مثبت رد عمل سامنے نہیں آیا۔ شامی مندوب نے کہا کہ اب سب پر واضح ہوچکا ہے کہ ترکی دہشتگردوں کے لئے ایک پُرامن ٹھکانہ بن گیا ہے مگر ہم امید کرتے ہیں کہ ایران، روس، ترکی کے درمیان مشترکہ تعاون میں نئے موڑ کے آغاز سے ان مسائل کا خاتمہ ہوجائے گا۔امریکہ کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ایک سفارتکار کی حیثیت سے کسی غیرملکی انتخابات پر بات کرنے پر دلچسپی نہیں رکھتے مگر شام امریکی انتخابات کو بڑے قریب سے دیکھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدارتی امیدوار ڈولنڈ ٹرمپ کی جانب سے صدر اوباما پر داعش کی بنیاد رکھنے کا الزام ایک لمحہ فکریہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲