اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی اس وقت گرفتار کرلئے گئے جب موصوف مزاحمتی قیادت کے متحدہ پروگرام کے تحت قصبہ بڈگام سے ایک پُرامن احتجاجی جلوس برآمد کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ آغا صاحب جوں ہی اپنے سرکردہ تنظیمی رفقاءکے ساتھ اپنی رہائش گاہ سے باہر آئے تو پولیس کی بھاری جمیعت نے ان کا راستہ روکا۔آزادی کے حق میں اور بھارتی فورسز کی جاری بربریت کے خلاف شدید نعرہ بازی کے بیچوں بیچ پولیس نے آغاصاحب اور ان کے کئی تنظیمی ساتھیوں بشمول غلام محمد ناگو، مدہوش بالہامی اور غلام حسن چلکی کو گرفتار کیا۔مجوزہ احتجاجی جلوسوں کو روکنے کیلئے پولیس نے قصبہ بڈگام کی طرف آنے والے تمام راستوں کو سیل کررکھا تھا اور مرکزی امام باڑہ بڈگام کی بھی مکمل ناکہ بندی کی گئی تھی جس کی وجہ سے امام باڑہ بڈگام میں کل بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی جاسکی۔گرفتاری سے قبل احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ کشمیری قوم اپنی تحریک آزادی کو منطقی انجام تک پہونچانے کیلئے ہر دشوار راہ گزر اور صبر آزما مراحل کو طے کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ بھارت کشمیریوں کی عزم و حوصلے کو توڑنے کیلئے کھلی ریاستی دہشت گردی پر اتر آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود فورسز کی طرف سے ممنوع پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کرکے ہماری نوجوان پود کو ناخیز بنایا جارہا ہے۔ کشمیریوں کی نسل کشی اپنے حد انتہا کو چھو رہی ہے۔بھارتی تسلط سے آزادی اور فورسز کے بے پناہ مظالم کے خلاف موجودہ ہمہ گیر احتجاجی تحریک کو توڑنے کیلئے انتہائی ظالمانہ حربے بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ ریاست کے طول و عرض میں بھارتی فورسز رات کے وقت مکانوں میں گھُس کر مکینوں کو زدوکوب کررہے ہیں اور مکانوں کی توڑ پھوڑ کی جارہی ہے۔ ہمارے ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کرکے غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان تمام حربوں کے باوجود کشمیری قوم کے حوصلے بلند اور عزم جواں ہے۔آغا صاحب نے کہا کہ ظلم و تشدد اور طاقت کے بل پر کسی مظلوم قوم کی آواز کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جاسکتا۔دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے تنظیم کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی اور ان کے تنظیمی رفقاءکی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب بھارت کو تنازعہ کشمیر کے تاریخی اور سیاسی حقائق اور ریاست کی زمینی صورتحال کا برملا اعتراف کرنا پڑے گا۔ترجمان نے وادی کے اطراف و اکناف میں آج چوتھے جمعہ کو بھی نماز جمعہ پر قدغن ، مرکزی امام باڑہ بڈگام، تاریخی جامع مسجد سرینگر اوراہلیان کشمیر کی عقیدت کے سب سے معتبر مرکز آثار شریف حضرت بل سمیت نماز جمعہ کے اہم مراکز کی ناکہ بندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دینی معاملات میں مداخلت کی بدترین مثال قرار دیا۔آغا صاحب نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ازمائش کے اس مرحلے میں آپسی ہمدردی اور ایک دوسرے کی مدد و معاونت کا بھر پور مظاہرہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲