اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جمعیت علماء پاکستان (نیازی) کے سربراہ و معروف اہلسنت عالم دین ’’ پیر معصوم حسین نقوی‘‘ نے یمن کے حوثی مجاہدین اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے درمیان ہونیوالے معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب دوسرے ممالک میں مداخلت بند کرے اور انہیں اپنے فیصلے خود کرنے دے۔
انہوں نے کہا کہ خادم الحرمین شریفین کے دعویدار یمن، بحرین، شام اور عراق میں مداخلت بند کر دیں تو امت مسلمہ کے اختلافات کم ہو جائیں مگر آل سعود کے توسیع پسندانہ عزائم اور امریکی غلامی کے شوق نے او آئی سی جیسے ادارے کو بھی غیر موثر کر دیا ہے۔
پیر معصوم نقوی نے کہا کہ علی عبداللہ صالح یمن کے تجربہ کار سیاستدان ہیں اور انہوں نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے یمن کی عوامی قوت حوثی مجاہدین سے معاہدہ کرکے سعودی عرب کو سخت پیغام دیا ہے کہ وہ بیرونی ممالک کے مظالم کیخلاف اندرونی منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حوثی مجاہدین اور علی عبداللہ صالح کے معاہدے کے خوف سے ہی آل سعود نے امریکہ سے مدد مانگنے اور اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جے یو پی نیازی کے سربراہ نے کہا کہ مخصوص مسلک کے لوگ سعودی عرب کے ایجنٹ مولوی پاکستان میں فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے سے گریز کریں کیونکہ ملکی حالات مسلکی ہم آہنگی کے حوالے سے بہتر ہونا شروع ہوگئے ہیں انہیں خراب نہ کیا جائے۔
انہوں نے ملک میں موجود سعودی ایجنٹوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چند سعودی ریالوں کی خاطر آل سعود کے سفارتخانے کی نظر میں آنے کیلئے ایسے اقدامات نہ کریں جس سے اتحاد امت کو نقصان پہنچے۔
پیر معصوم نقوی نے مزید کہا کہ ایران اور سعودی عرب کو بھی اپنے معاملات درست کرنے کیلئے اختلافات کو اچھالنے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ اسی میں امت کی بھلائی کا راستہ موجود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲