اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/میر پور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اہتمام سے پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں تنازعہ کشمیر کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے واضح کیا کہ ریاست جموں کشمیر کی متنازعہ اور بین الاقوامی حیثیت ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کو دنیا کی کوئی بھی طاقت تبدیل نہیں کر سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مطلق العنان شخصی آمر مہاراجہ ہری سنگھ کے ذاتی سمجھوتے کو بنیاد بناکر بھارت ریاست جموں کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے کا کوئی قانونی ، سیاسی یا اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔ آغاصاحب نے کہا کہ آمروں کو قوموں کے مستقبل سازی کے حوالے سے ذاتی فیصلے لینے کا کوئی حق نہیں ہوتا اور پھر ایسے آمر کے فیصلے کی کوئی بھی وقعت نہیں ہوتی جو عوامی بغاوت کے نتیجے میں راہ فرار اختیار کر چکا ہو۔ آغا صاحب نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو جوں کا توں رکھنے سے جنوب ایشیائی خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کو بھی خدشات لاحق ہیں۔تنازعہ کشمیر پر کسی اور جنگ کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ اس مسئلے کی وجہ سے اکثر و بیشتر جو دلخراش واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کسی وقت دوجوہری ہمسائیوں کے درمیان فوجی تصادم کا راستہ ہموار کرسکتا ہے ۔اس لئے اس دیرینہ سیاسی تنازعے کا حل انتہائی ناگزیر بن چکا ہے۔ آغا صاحب نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مراعات اور محبت کی بارش سے کشمیری عوام اپنے لاکھوں شہدا ءکے مشن سے کسی بھی صورت میں دست بردار نہیں ہوسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ سوا کروڑ انسانوں کے سیاسی تقدیر کا معاملہ ہے۔ کشمیریوں کو اندھیرے میں رکھ کر اب بھارت اور پاکستان کسی سمجھوتے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ریاست جموں کشمیر میں سینک، رفوجی اور پنڈت کالونیوں کے قیام کے منصوبوں کو ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کے خاتمے کی ایک ہمہ گیر منصوبہ بندی سے تعبیر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ اگر ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا گیا تو اس کا شدید رد عمل سامنے آسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲