اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کو تہران میں مقدونیہ کے وزیر خارجہ نیکولا پوپوسکی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے اثاثوں کی حفاظت کا ذمہ دار امریکا کو سمجھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایران کے اثاثوں میں خردبرد کی گئی تو امریکی حکومت کے خلاف تاوان کا دعوی دائر کیا جائے گا۔
انھوں نے ایران کے اثاثوں میں سے دو ارب ڈالر ضبط کرنے کے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عدالتوں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی فہرست بہت طولانی ہے۔
وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گیارہ ستمبر کے حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے ایک امریکی عدالت کے دعوے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی عدالتیں کس حد تک سیاسی محرکات کے تحت کام کرتی ہیں اور ان کے دعوے اور فیصلے قانونی بنیادوں پر استوار نہیں ہوتے۔
انھوں نے مقدونیہ کے وزیر خارجہ کے دورہ ایران کے بارے میں کہا کہ امید ہے کہ اس دورے سے ایران اور مقدونیہ کے درمیان روابط کے نئے باب کا آغاز ہو گا۔
مقدونیہ کے وزیر خارجہ نے بھی اس پریس کانفرنس میں مشرق وسطی کے مہاجرین کے مسئلے اور اس سلسلے میں یورپی یونین کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطی اور دوسرے علاقوں میں پائے جانے والے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
انھوں نے ایران کے ساتھ اقتصادی روابط میں توسیع کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان خاص طور پر سیاحت کے شعبے میں روابط کے فروغ کی کافی گنجائش پائی جاتی ہے جس سے دونوں ملکوں کی اقوام فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اعلان کیا ہے کہ ایران اپنے اثاثوں میں کسی بھی قسم کی خردبرد پر امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرے گا۔
وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کو تہران میں مقدونیہ کے وزیر خارجہ نیکولا پوپوسکی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے اثاثوں کی حفاظت کا ذمہ دار امریکا کو سمجھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایران کے اثاثوں میں خردبرد کی گئی تو امریکی حکومت کے خلاف تاوان کا دعوی دائر کیا جائے گا۔
انھوں نے ایران کے اثاثوں میں سے دو ارب ڈالر ضبط کرنے کے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عدالتوں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی فہرست بہت طولانی ہے۔
وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گیارہ ستمبر کے حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے ایک امریکی عدالت کے دعوے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی عدالتیں کس حد تک سیاسی محرکات کے تحت کام کرتی ہیں اور ان کے دعوے اور فیصلے قانونی بنیادوں پر استوار نہیں ہوتے۔
انھوں نے مقدونیہ کے وزیر خارجہ کے دورہ ایران کے بارے میں کہا کہ امید ہے کہ اس دورے سے ایران اور مقدونیہ کے درمیان روابط کے نئے باب کا آغاز ہو گا۔
مقدونیہ کے وزیر خارجہ نے بھی اس پریس کانفرنس میں مشرق وسطی کے مہاجرین کے مسئلے اور اس سلسلے میں یورپی یونین کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطی اور دوسرے علاقوں میں پائے جانے والے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
انھوں نے ایران کے ساتھ اقتصادی روابط میں توسیع کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان خاص طور پر سیاحت کے شعبے میں روابط کے فروغ کی کافی گنجائش پائی جاتی ہے جس سے دونوں ملکوں کی اقوام فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲