اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کو نسل صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کراچی میں 7 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم گزشتہ کئی عرصے سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ کراچی میں دہشت گردوں کا ایک بڑا وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو وقفے وقفے سے کراچی میں بے گناہ افراد کو نشانہ بناتا ہے، آج پولیس پر ہونے والا یہ حملہ اُسی دہشت گردی کا ایک تسلسل ہے، پولیو کی اس مہم پر مامور پولیس اہلکار عوام کے بچوں کو پولیو جیسی مہلک بیماری سے بچانے کے لیے سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے تھے، یہ دہشت گردی کا واقعہ تمام اداروں کی کارکردگی کے اوپر سوالیہ نشان ہے۔ ایک بیان میں علامہ ناظر عباس تقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی سالوں سے یہ آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نظر نہیں آرہا، جب سیکیورٹی اہلکاروں کی سیکیورٹی کا یہ حال ہوگا تو یہ عوام کی جان و مال کا تحفظ کیسے کریں گے، اس شہر کراچی میں دہشت گردوں کے گروہ اور دہشت گرد جماعتیں اب تک اپنے مضبوط پنجے گاڑھے ہوئے ہیں اور وہ جب چاہتے ہیں بے گناہ لو گوں کو ہدف بنانے میں کا میاب ہو جاتے ہیں، ایجنسیوں کا اتنا وسیع نیٹ ورک ہونے کے باوجود واقعہ ہونے سے پہلے اطلاع کیوں نہیں ملتی، یہ ایجنسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج پھر ساتھ گھرانوں کے چراغ بجھ گئے لیکن حکومت کی وہی روایتی کاروائیاں کہ وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ اور آئی جی نے نو ٹس لے لیا، تحقیقاتی کمیشن قائم کر دئیے گئے، یہ سب عوام کو دھوکا دینے کی باتیں ہیں، قومی ایکشن پلان اور اپیکس کمیٹیاں بننے کے بعد عوام کو کیا ریلیف ملا عوام اب تک خوف و ہراس کی زندگی گزار رہی ہے، ریاست پاکستان اپنے شہریوں کو اور اپنی عوام کو تحفظ دینے میں بڑی طرح ناکام ہو چکی ہیں، اگر یہی صورتحال سے ملک دوچار رہا تو اس ملک کی داخلی صورتحال بہت گھمبیر ہوجائے گی لہذا اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو چاہیئے کہ اپنے مفادات اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر تنقید اور رسہ کشی کی سیاست ختم کر کے عوام کو تحفظ اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کریں، اسی میں ملک کی بہتری اور سلامتی ہے۔
.......
/169