اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی پالیسی یکطرفہ، حکومتوں اور اقوام پر مسلط کرنے پر مبنی ہے تاہم حالیہ تبدیلیوں کے دوران عربی ممالک کا جہکاؤ سعودی اقدامات اور پالیسیوں کی طرف نہیں رہا.
ان خیالات کا اظہار 'حسین جابرانصاری' نے پیر کے روز تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ملکی اور غیرملکی صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے عرب لیگ اورخلیج فارس تعاون کونسل کے حالیہ اجلاسوں میں یکطرفہ پالیسی کے ذریعے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سعودی عرب اکیلا نہیں ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے اور معروف سعودی عالم دین شہید آیت اللہ النمر کی پھانسی کے خلاف بھی مختلف ممالک اور عالمی سطح پر رد عمل سامنے آئے.
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا سعودی یکطرفہ فیصلے پر بھی عربی ممالک کے درمیان کوئی مجموعی طور پر اتفاق نہیں کیا گیا.
جوہری معاہدے کے نفاذ اور ایران کے دفاعی نظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میزائل نظام کا جوہری معاہدے کے نفاذ سے کوئی تعلق نہیں ہے.
جابرانصاری نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری ترجیح جوہری معاہدے پر ہونے والی مفاہمت پر مبنی ہے تاہم اگر اس سمجہوتے کے خلاف امریکہ میں کوئی بیل پاس ہوا تو ایران بدلے میں اس خلاف ورزی کا جواب دینے پر آمادہ ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲