اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آل سعود کے ہاتھوں دی گئی عالم ربانی آیت اللہ شیخ نمر کو سزائے موت کے بعد دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں اور شیخ کی روح مسرت بخشنے کے لیے جگہ جگہ مجالس عزا کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔
اسی حوالے سے کراچی میں ہوئی ایک مجلس عزا کے دوران جامعۃ عروۃ الوثقیٰ کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین سید جواد نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا: شھید شیخ نمر باقر النمر عالم شجاع و دلیر انسان بہادر انسان کہ جہاں پر لوگ سانس بھی نہیں لے سکتے وہاں پر اس نظام اور اس خلافت کے خلافا انہوں نے صدائے احتجاج بلند کیا۔
انہوں مزید کہا کہ شھید نے نہ کوئی لشکر بنایا، نہ کوئی تنظیم بنائی، فقط تقریر کی، اپنے خطبوں کے اندرآل سعود کی کمزوریاں بتائیں کہ یہ تم غلط کر رہے ہو۔ یہ حقوق تم چھین رہے ہو۔ آزادی نہیں دے رہے۔ بس اتنا زبان سے استفادہ کیا۔ جس کے بعد ان پر یلغار کی گئی۔ان کو اسیر کیا گیا اور پھر گاڑی میں ڈال کر گولی ماری دی گئی۔
علامہ جواد نقوی نے کہا: شیخ نمر نفس ذکیہ ہیں جن کو سرزمین حجاز پر شہید کیا گیا ۔کیوں نفس ذکیہ ہیں؟ چونکہ نفس ذکیہ شہادت کے بعد ظلم کا خاتمہ ہوگا اور عدالت کا قیام ہوگا انشاءاللہ شہید نمر کی شہادت کے نتیجے میں اس ظلم کا خاتمہ ہوگا اور اس شہید کی شہادت در حقیقت روشنی ہے علَم ہے, منارہ ہے اس حقیقت کے لئے بعض علماء نے یہ فرمایا ہے کہ نفس ذکیہ دیگر کچھ اور عناوین کی طرح تمثیلی عنوان ہیں توصیفی نہیں ہے ایک معین فرد کا نام نہیں ہے بلکہ تمثیل ہے ، نفس ذکیہ تمثیل ہے کس کا؟ ایک سلسلہ کا ،ایک حقیقت کا ثمیل ہے، علامت ہے، شناخت ہے،یہ ایک علامت ہے، ان علماء کے نزدیک دجاّل بھی ایک علامت ہے۔ دجال بھی ایک ثمثیل ہے کس کا؟ ظالمانہ نظام کا اندھے نظام کا، وحشی نظام کا، دہشت ناک نظام کا ِکنایہ ہے، تمثیل ہے ،بعض علماء کے نزدیک دوسری تمثیل کے مطابق دجال ایک فرد نہیں ہوگا بلکہ دجال کئی ہونگے کئی دفعہ دجال آئیگا، دجالی نظام آئیں گے اور یہ دجالی نظام نابود ہونگے، نیست و نابود ہونگے اور ان کے بعد حق کا قیام ہوگا ان علماء کے نزدیک یہ جو آخر الزمان کی جو علامتیں ہیں ان کی حیثیّت تمثیلی ہے توصیفی نہیں ہے ابھی میں آپ کی خدمت میں دونوں میں سے کوئی رائے چن کے نہیں بیان کررہا بلکہ دونوں طرح کے علماء نے نفس ذکیہ یا آخرالزمان کی علامتوں کی جو بھی تفسیر کی ہے اگر دونوں کو درست مان لیں ہم یہ کہیں کہ نفس ذکیہ ایک فرد معین ہے تو شیخِ شہید نفس ذکیہ کا شبیہ کہلائے گا اور اگر نفس ذکیہ ایک تمثیلی چیز ہے تو شیخ شہید حقیقتاً نفس ذکیہ ہیں، یہ خود نفس ذکیہ ہیں اس ظالم سلسلہ کے لئے یہ نفس ذکیہ ہے اور ہر ظالم سلسلہ ایک نفس ذکیہ کے قتل کے بعد نابود ہوجائے گا اگر یہ دیکھنا ہے تو وہ عراقی شہداء شہید صدر نفس ذکیہ تھے شہید حکیم نفس ذکیہ تھے کہ جن بزرگوں کے قتل کے بعد ظلمِ صدام نیست و نابود ہوگیا یہ شہید نفس ذکیہ ہے اس نفس ذکیہ کے قتل کے بعد آل سعود کا ظلم ختم ہونے کو ہےِ اس ظلم کا اختتام ہونے کو ہے، وہ ظلم نابودی کے قریب جاپہنچا ہے اور یہ ظالم ظلم سمیت فی النار ہونے والا ہے۔ اسی کی طرف رہبر معظم نے اشارہ کیا کہ آل سعوداس خطا کے بعداس جرم کے بعد اس بے گناہ مظلوم کو بے دردی کے ساتھ مارنے کے بعد اب انتقام الٰہی سے بچ نہیں سکتے آل سعود نے پورے جہان تشیع کی بے حرمتی کی ہے چونکہ شیخ نمر درحقیقت ایک فرد، ایک عالم نہیں تھا بلکہ درحقیقت ایک مکتب کی پہچان تھا، ایک مکتب کی شناخت تھا، ایک مذہب کی شناخت۔ مذہب کی شناخت پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے تو اس مکتب کے گریبان کو جھنجھوڑا گیا ہے، اس کو للکارا گیا ہے،اس کو چیلنچ کیاگیا ہے، اس کو ہل من المبارز کہا گیا ہے اس لئے آل سعود نے وہ کام کیا ہے جو یزید ابن معاویہ لعنت اللہ علیہ نے کیا تھا نفس ذکیہ کو شہید کرکے پھر ظلم جاری نہیں رہ سکتا لیکن یہ ظلم ختم کیسے ہوگا؟ یہ ظلم اختتام پذیر کیسے ہوگا؟ نابود کسیے ہوگا؟اس وقت جب پوری دنیائے اسلام کے اندر شعور آجائے گا یہ نہ ہو کہ قاتل کو بھی لوگ مسلمان سمجھیں اور مقتول کو بھی لوگ مسلمان سمجھیں وہ بھی رضی اللہ، یہ بھی رضی اللہ۔ یہ شعور آنے کے بعد ہوگا۔ شعور اس وقت آئےگا کہ جب لوگ رسول اللہ (ص) کی پیغام کو سمجھیں صرف رسول اللہ کی نعت سے ظلم سے نجات نہیں ملے گی صرف رسول اللہ (ص) کی مدحت سے نجات نہیں ملے گی جب تک رسول اللہ کی راہ بھی زندگی نہیں کریں گے۔
صدیوں سے سرزمین حجاز پر تشیع تھا شناخت نہ شدہ، فراموش شدہ لیکن اس شہید نے پوری دنیا کے لیے تشیع کے لئے پہچان پیدا کردی اب دنیا کو پتہ چل گیا حجاز میں بھی تشیع موجود ہیں راہ روانِ راہ حسین ابن علیؑ موجود ہیں اور یہ لاشیں عزیزان ایک شاعر اردو زبان کے شاعر نے اچھی ترجمانی کی شہداء کی فقط عقیدت کا اظہار نہیں کیا بلکہ حقیقت کا اظہار کیا کہ لاشیں بہت کچھ اثر دیکھاتی ہیں اگر بیچی نہ جائیں اگر فروخت نہ کی جایئں سرکاری لوگ آکر بیچنا شروع کرتے ہیں لاشوں کی قیمت لگاتے ہیں اور وصول کرلیتے ہیں جو لاشیں بیچ دی جائیں ان کی بے حرمتی ہوتی ہے ان کی بے احترامی ہوتی ہے ان کے تقدس کو پائمال کیا جاتا ہے آپ نے دیھکا ہوگا تصویروں میں کسی کی سلمان حمار کے ساتھ بیعت کرنے کے لئے عبا قبا میں آکر دربار میں حاضر ہوکر اسی جلاّد کے ہاتھ پر عبا قبا میں بیعت کرکے گئے اسی سرزمین کے اندریہ شیر خدا سینہ تان کر کھڑا ہوگیا اس شاعر نے حقیقت بیان کیا:
فوج حق کو کچل نہیں سکتی
فوج چاہئے کسی یزید کی ہو
لاش اٹھتی ہے پھر علم بن کر
لاش چاہئے کسی شہید کی ہو
’’شیخ نمر علَم ہیں تشیع کا، پہچان ہیں تشیع کا ‘‘
ہم مبارک باد پیش کرتے ہیں اس شہید کو یہ مقام عظمیٰ، یہ فضیلت عظمیٰ جو اپنے مقتل میں اپنے قدموں سے چل کر اپنی گردن کٹا دی اور اپنے مولا حسینؑ کے نقش قدم پر چل کر سرفراز ہوگیا‘‘
’’شہید صرف خود کوزندہ نہیں بلکہ اپنی ملت کو بھی زندہ کردیتا ہے‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲