اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عبد الباری عطوان نے جو آزاد عربی روز نامے "رائ الیوم" کا مشہور تحلیل نگار ہے اس مقدمہ" بطور غیر متوقع اور بغیر کسی مقدمہ کے محمد بن سلمان سعودی عرب کے ولیعہد کے جانشین اور وزیر دفاع نے دہشتگردی کے خلاف ایک فوجی اسلامی اتحاد کی تشکیل کی خبر دی ہے کہ جس میں ۳۴ ملک شامل ہیں کہ جس کا کام دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہو گا اور اس کام کے لیے وہ ریاض میں ایک مشترکہ دفتر قائم کریں گے ۔" کے ساتھ آگے لکھا ہے : جب ہم کہتے ہیں اچانک تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ ہم اور ہمارے جیسے لاکھوں لوگ جانتے ہیں کہ کوئی بھی ظاہری یا مخفی میٹینگ ان ملکوں کی موجودگی میں منعقد نہیں ہوئی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ اتحاد کے ساتھ جڑ گئے ہیں اور وہ سب کے سب اسلامی تعاون کونسل کے رکن ہیں اور ان ملکوں کے درمیان ایران اور عراق جیسا ایک بھی شیعہ اکثریت والا ملک نہیں ہے جب کہ وہ کونسل کے رکن ہیں یا الجزائر بھی ان میں نہیں ہے کہ جو دہشتگردی کے خلاف دس سال تک لڑتا رہا ہے اور اس نے اپنے دو لاکھ افراد کی جانیں اس راہ میں گنوائی ہیں یا اس اتحاد میں انڈونیشیا جیسا سب سے بڑا اسلامی ملک بھی نہیں ہے ۔
کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سنی نیٹو کا یہ جدید اور چونکا دینے والا پیمان کہ جو سنی دہشتگردوں کے مقابلے کے لیے وجود میں آیا ہے یا ایران عراق اور شا م کے اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لیے وجود میں آیا ہے کہ جس کی حمایت روس کر رہا ہے ۔ ؟
اس چونکا دینے والے اتحاد کے اعلان کا وقت بھی کئی وجوہات کی بنا پر اہمیت کا حامل ہے کہ جن کو درج ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے ۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ امریکی کانگریس کی فوجی کمیٹی کے مسئول سینیٹر جان مک کین نے دس روز پہلے ایک لاکھ ایسے سپاہی تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا کہ جو سب کے سب اہل سنت کے ممالک میں سے ہوں تا کہ وہ داعش کے ساتھ جنگ کریں اور ان کے درمیان ۱۰ ہزار امریکی بھی اس گروہ کا مقابلہ کرنے کے لیے موجود ہوں ۔
دوسرا نکتہ یہ کہ جان بولتون کہ جو اقوام متحدہ میں امریکہ کا نمایندہ رہ چکا ہے اس نے چند روز پہلے نیو یارک ٹائمز میں ایک مقالے میں لکھا ہے کہ دولت اسلامی نام کا ایک سنی ملک شام کے مشرق اور عراق کے مغرب میں داعش کے تحت تصرف علاقوں میں بنا ہے تا کہ اس کے مقابلے میں جنوب عراق میں ایک شیعہ ملک اور شمال عراق میں ایک کرد ملک بنایا جائے ۔
تیسرا نکتہ ،یمن کے خلاف "فیصلہ کن طوفان" نامی فوج اتحاد کی شکست ہے کہ جس کے تحت سعودی جنگی طیارے اور مغرب اور خلیج فارس کے ان کے حامی ملکوں کے جنگی طیارے ۹ ماہ سے ، حوثیوں اور عبد اللہ صالح کے اتحاد کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں اور یمن کے دارالخلافہ"صنعا" کو ان سے چھین کر "عبد ربہ منصور ہادی" کو نہیں دے پائے ہیں کہ جو یمن کا بھگوڑا صدر ہے ،بلکہ "فیصلہ کن طوفان"نامی اتحاد کو اس کے برعکس نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ جن میں سے حوثیوں کا سعودی عرب کے جنوب میں"جازان" اور "نجران" میں نفوذ ہے اور اس اتحاد کا بھاری پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہے ۔
چوتھا نکتہ یہ کہ شام کے مخالفوں کی ایک بیٹھک چند روز پہلے ریاض میں منعقد ہوئی اور اس نے شام کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک بلند پایہ کمیٹی تشکیل دی جو ۲۰ افراد پر مشتمل ہے اس بیٹھک کو شام اور روس کی طرف سے شدید اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا اور کردوں اور مخالفین کے چند گروہوں نے اس بیٹھک کا بائیکاٹ کیا ۔النصرہ محاذ اور اس کے رہبر ابو محمد جولانی نے اس بیٹھک میں شرکت کرنے والے تمام افراد کو خائن قرار دیا ۔
پانچواں نکتہ یہ کہ مغرب اور خاص کر امریکہ کی طرف سے سعودی عرب قطر پر دہشتگردی کو تقویت دینے پر مبنی الزام بڑھ گئے ہیں ۔ یہ الزامات شرم الشیخ میں روسی طیارے کے گرائے جانے ، پیرس میں دھماکے کرنے ، اور لندن اور امریکہ میں حملے کرنے کے بعد لگائے گئے ہیں ،چنانچہ سعودی عرب نے جو نیا اتحاد بنایا ہے وہ انہی الزامات کا جواب دینے کے لیے ہے ۔
سعودی عرب کے اس چونکا دینے والے اقدام کے پس پردہ کیا ہے اس کے بارے میں ہمیں زیادہ معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ ریاض کی اپنے رویے میں تبدیلی کی نشانی ہے اور اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب نے"بردباری کی سیاست " چھوڑ کر "جارحیت کی سیاست" اپنا لی ہے ،اور سعودی عرب کے ذرائع کے بقول اس نے "شاہ سلمان" کے عقیدے کو اختیار کر لیا ہے ،ایسا کوئی قطعی نتیجہ نکالنا بھی جلدی ہے ،لیکن اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ سنی فوجی پیمان علاقے میں گروہوں کے دو جٹ ہونے کو ہوا دینے کے لیے ہے کہ جس کی بنیاد پر اس علاقے کی تقسیم ہو گی اور(19مئی1916ء کا معروف معاہدہ)" سایکس ۔ پیکو" کے سمجھوتے کے لیے نئی جغرافیائی سرحدیں قائم ہوں گی ۔
یہ اقدام سعودی عرب کا ایک اور فتنہ ہے جو انتہائی خطر ناک ہے اور ایک جنگ سے دوسری جنگ کی طرف منتقل ہونے میں عجلت کی نشاندہی کرتا ہے ۔یعنی دہشتگردی کے یعنی دولت اسلامی عراق و شامات( داعشISIS) کے خلاف جنگ سے ان کے مشابہ یعنی ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ کی طرف منتقل ہونا ہے اور یہ اقدام امریکہ کے بائکاٹ اور اسرائیل کی مشارکت سے ہو رہا ہے ۔
سعودی عرب کے ولی عہد کے جانشین محمد بن سلمان نے جو پریس کانفرنس بلائی اس میں دقت کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جس میں صرف سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ تھے اور اتحاد کے دیگر ۳۳ ملکوں کے نمایندے اس میں نہیں تھے اور نہ جانے ان کو کیوں کنارے کر دیا گیا تھا اور انہیں سوال پوچھنے کا موقعہ نہیں دیا گیا کہ وہ اس پیمان کے جزئییات کے بارے میں پوچھیں کہ ان کے ملکوں کی فوجیں بھی کیا اس میں شرکت کریں گی اور مستقبل قریب میں اپنے ملک کی سرحدوں سے باہر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شرکت کریں گی کہ جس میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان بھی ہوسکتا ہے تو پھر ان کو کنارے کر دینے کی وجہ کیا ہے؟
قابل توجہ مسئلہ یہ ہے کہ اس کانفرنس میں اسرائیل کی دہشتگردی کا نام تک نہیں لیا گیا اور یہ چیز اس کے خلاف ہے کہ جو ہم سے کہی گئی ہے کہ ایک خیالی ملک فلسطین اس پیمان میں شامل ہے ۔ اس بناپر یہ سنی نیٹو صرف دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے ؟ یا بہتر طور پر کہیں کہ یہ بیداریوں کا اتحاد ہے کہ جو اس بار ملکوں اور حکومتوں کی سطح کا ہے ؟ کیا محمود عباس فلسطینی خود مختار حکومت کے سربراہ نے اس سلسلے میں فلسطینی تنظیموں کی رائے پوچھ لی ہے ؟ یا فلسطین کی قومی کمیٹی اور اجرائی کمیٹی کی موافقت حاصل کرنے جیسے لازمی اقدامات کر لیے گئے ہیں ۔
آخر میں ایک سوال ہے کہ اس کام میں سعودی عرب اور خلیج فارس کے ملکوں کو بھاری اخراجات کا متحمل ہونا پڑے گا اور رشوت جو اس اتحاد میں شرکت کرنے والے ملکوں کو دی گئی ہے اس کی قیمت قطعا سیکڑوں ارب ڈالر ہو گی کیا سعودی عرب اور خلیج فارس کے دیگر ملک اتنا بڑا خرچہ برداشت کر سکتے ہیں جب کہ تیل کے ایک بیرل کی قیمت ۳۵ ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور بجٹ میں گھاٹا بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے اور خارجی ذخائر میں بھی کمی آگئی ہے اور سعودی عرب اور خلیج فارس کے ملکوں نے غیر مستقیم ٹیکس لاگو کرنا شروع کر دیے ہیں اور رفتہ رفتہ وہ بنیادی چیزوں جیسے پانی ،بجلی اور ایندھن سے سبسڈی بھی ختم کرنے والے ہیں ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہم ایک تباہی مچانے والی جنگ کی کھائی کے دہانے پر کھڑے ہیں جو ہمارے اموال اور فرزندوں کو تباہ کر دے گی اور ہمارے ملکوں کو ویران کر دے گی اور احتمالا اگر وہ صدیوں تک نہ بھی چلی تب بھی دسیوں سال تک چلے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲