اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں رقاہ شہر میں محمد ایموازی عرف جہادی جان کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ محمد ایموازی برطانوی شہری تھا جبکہ اس نے امریکی صحافیوں اسٹیوین اسٹولوف اور جیمز فولے، امریکی امداد کارکن عبد الرحمن، برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہینس، ایلان ہیننگ، جاپانی صحافی کینجی گوٹو سمیت کئی افراد کو قتل کیا۔

شام کے حوالے سے برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی جانب سے بھی جہادی جان کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ رامی عبد الرحمٰن کے مطابق جہادی جان کو ان کے 3 ساتھیوں کے ساتھ ایک کار میں نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ رقاہ کے اسپتال میں لائی جانے والی لاش جہادی جان کی ہے، اس کی تصدیق تمام ذرائع کررہے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے سفاک قاتلوں کی نشاندہی اولین ترجیح ہے۔
واضح رہے کہ اگست 2014 میں داعش نے امریکی صحافی جیمز فولے کا سر قلم کیا تھا اس موقع پر ایک نوجوان انگریزی میں مغربی ممالک کو دھمکیاں دیتا ہوا نظر آتا ہے، اس وقت اس کی شناخت سامنے نہیں آئی تھی، مگر بعد میں امریکی حکام نے اس کی تصدیق کی کہ یہ انگلینڈ کا رہائشی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169