6 اکتوبر 2015 - 16:42
سائبری فضا میں دینی تبلیغ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے: آیت اللہ شبستری

انہوں نے کہا کہ دنیا میں مختلف علوم کے محققین اور دین حق کے متلاشی سائبری فضا کی طرف رجوع کر کے قیمتی مطالب حاصل کر سکتے ہیں کہ جو خود شیعت اور اسلام کے مستقبل کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے سربراہ نے تبریز میں اسمبلی کے پانچ تازہ ڈیجیٹل مصنوعات کی رونمائی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے سانحہ منیٰ کے سلسلے میں عالم اسلام کو تعزیت جبکہ عید غدیر کی مبارک باد پیش کی اور کہا: روایات کے مطابق تعلیمات اہلبیت(ع) کی نشر و اشاعت کرنا تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اس دور میں دینی تعلیمات کو عام کرنے کا آسان ترین اور بہترین طریقہ یہ سائبری فضا ہے۔
آیت اللہ محسن مجتہد شبستری نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جانکار افراد کی رپورٹ کے مطابق آج کے دور میں کتابوں سے زیادہ لوگ سائبری دنیا کی طرف رجوع کرتے ہیں کہا: آج سائبری فضا سے تمام مسائل میں استفادہ کیا جا رہا ہے جبکہ سیٹلائٹ کا زیادہ تر استعمال غیر اسلامی اور غیر اخلاقی امور کی ترویج میں کیا جا رہا ہے۔ ہم اس کو بھی دینی سمت موڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں مختلف علوم کے محققین اور دین حق کے متلاشی سائبری فضا کی طرف رجوع کر کے قیمتی مطالب حاصل کر سکتے ہیں کہ جو خود شیعت اور اسلام کے مستقبل کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔
آیت اللہ شبستری نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں دینی کتابوں کے نشر و اشاعت اور سائبری فضا میں مذہبی سافٹ ویئر تیار کرنے کے میدان میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے دینی مبلغین اور محققین کو اسمبلی کا مرہون منت قرار دیا اور کہا: نئے سافٹ ویئر خاص طور پر سوالات و جوابات پر مبنی مفتاح سافٹ ویئر تشیع کی تبلیغ کا سبب بن سکتا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی دور اندیشی کو کامیابی کا راز قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور ہمدلی پیدا کرنا اسمبلی کی دور اندیشی کا ایک مصداق ہے اور در حقیقت اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی بنیاد ہی اسی مقصد کے پیش نظر رکھی گئی کہ اتحاد بین المسلمین کو مد نظر رکھتے ہوئے تشیع کو تقویت پہنچائی جائے۔
تبریز کے امام جمعہ نے اپنی گفتگو میں سانحہ منیٰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ملک کے عہدہ داروں سے مطالبہ کیا کہ اس سانحہ کے مخفی عوامل کی چھان بین کریں اور کہا: اس واقعہ نے آل سعود کے خبیث چہرے کو دنیا میں آشکار کر دیا لہذا ملکی اور بین الاقوامی عہدہ دار اس واقعہ میں جانبحق ہونے والوں کے حقوق کا مطالبہ کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲