اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی سمجھوتے کے جائزے کے لئے کانگریس کو حاصل ساٹھ روز کی قانونی مہلت ختم ہونے کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پولینڈ میں سابق امریکی سفیر اسٹیو مل کو جامع مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے رابطہ کار مقرر کیا ہے۔
ریپبلکنز نے جامع مشترکہ ایکشن پلان کو ناکام بنانے کے لئے آخری کوشش کے طور پر ایک بل منظور کرانے کی کوشش کی جس کے مطابق ایران پر عائد پابندیوں کی منسوخی کو اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کیا گیا تھا لیکن یہ بل بھی مطلوبہ ساٹھ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا-
امریکہ کے ریپبلکن سینیٹروں نے اس سے پہلے بھی( رواں ہفتے کے دوران) ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان ایٹمی سمجھوتے کے بارے میں بحث کے خاتمے اور اس پر رائے شماری کی غرض سے ایوان کی رائے معلوم کی تھی لیکن دونوں مرتبہ انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
رپیپبلکنز کی شکست کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں تاکید کے ساتھ کہا کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اہم یہ سمجھوتہ ہے اور امریکہ کے سیکورٹی اہداف میں اس معاہدے کے کردار کے باعث ،یہ معاہدہ ملک کے لئے بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے-
جامع مشترکہ ایکشن پلان کی بنیاد پر ایران کو عالمی برادری میں ایک ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کیا جائے گا اور اقوام متحدہ، یورپ اور امریکہ کی پابندیاں منسوخ ہونے کے بعد تہران اپنی کچھ ایٹمی سرگرمیاں تھوڑے عرصے کے لئے محدود کر دے گا-
امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے بیان کے مطابق اسٹیون مل دو ہزار آٹھ سے دو ہزار دس تک امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رہ چکے ہیں اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں بھی کچھ سرگرمیاں انجام دے چکے۔
انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرار داد انیس سو انتیس پیش کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا جو ایران پر مزید پابندیاں عائد ہونے کا باعث بنی-
جان کیری نے اپنے بیان میں تاکید کی ہے کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ساتھ ہی امریکی حکومت اور وزارت خارجہ مشرق وسطی میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سیکورٹی تعاون بڑھانے کی کوشش کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲