7 اگست 2015 - 16:48
ترکی اور آل سعود اپنے ہی بنائے ہوئے جال میں گرفتار

تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی جانب سے اپنے تعین کردہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنائے جانے میں مکمل ناکامی اور غیر انسانی اقدامات کی بدولت عالم اسلام اور دنیا میں شدید بدنامی کے باعث اب ترکی اس سے مقابلے کا فیصہ کر چکا ہے تاکہ اس طرح ایک طرف اس دہشت گرد گروہ کی حمایت کا داغ اپنے دامن سے دھو سکے اور دوسری طرف داعش سے خود کو درپیش خطرات کا مقابلہ کر سکے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ترکی نے آخرکار شام کے سرحدی علاقوں پر وسیع فوجی سرگرمیاں انجام دینے اور شام کی سرزمین میں محدود اور عارضی فوجی کاروائیوں کے بعد گذشتہ جمعہ بغیر کسی وارننگ کے عراق کے شمالی شہر حلب اور چند روز بعد شام کے شہر کوبانی پر وسیع ہوائی حملوں کا آغاز کر دیا۔ انقرہ نے ان حملوں کا مقصد جو اب بھی جاری ہیں، "تکفیری دہشت گردوں سے مقابلہ" بیان کیا ہے۔ اسی طرح ترکی نے حلب اور کوبانی پر ہوائی حملوں کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بھی ایک وسیع آپریشن شروع کر دیا ہے جس کا مقصد داعش اور پی کے کے سے مربوط دہشت گردوں کا خاتمہ ہے۔ تازہ ترین شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ترکی کی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے سینکڑوں اڈوں پر دھاوا بول کر اب تک تقریبا ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس وقت ترکی کی جانب سے ملک کے اندر اور باہر تکفیری دہشت گردوں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن کو پانچ روز گزر چکے ہیں۔ ترکی ائیرفورس کے جنگی طیارے عراق اور شام کے شمالی علاقوں میں اور اسی طرح ترکی کی سکیورٹی فورسز ملک کے مرکز یعنی انقرہ میں ایسے افراد کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں جنہیں دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔

لیکن تقریباً ساری دنیا ہی جانتی ہے کہ ترکی کم از کم ان حملوں کے آغاز سے قبل تکفیری گروہ داعش کا سرسخت حامی تھا جس کا اعتراف امریکی میڈیا اور حتی بعض ترک سیاست دان اور میڈیا ذرائع کئی بار کر چکے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے ستمبر 2014ء میں ہارورڈ یونیورسٹی میں رجب طیب اردگان کی جانب سے تکفیری دہشت گرد عناصر کی حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ترکی سمیت خطے میں ہمارے اتحادی ممالک داعش دہشت گرد گروہ کی پیدائش کے ذمہ دار ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے تکفیری دہشت گرد عناصر کو سرحد پار کر کے شام جانے کی کھلی اجازت دے رکھی ہے۔

ایم آئی ٹی جیسی مضبوط انٹیلی جنس ایجنسی کی موجودگی کے باوجود ترکی کے مختلف صوبوں سے ایک ہزار سے زائد تکفیری دہشت گردوں کی گرفتاری اور ملک بھر میں اتنی بڑی تعداد میں دہشت گردانہ مراکز کی موجودگی ایک غیرمعمولی امر ہے۔ یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی کو پہلے سے ملک میں موجود تکفیری دہشت گردوں کی اتنی بڑی تعداد کا علم نہ تھا اور صرف گذشتہ چند دنوں کے دوران ہی ان تکفیری دہشت گردوں کی شناخت کی گئی ہے اور انہیں گرفتار کیا گیا ہے؟ ترکی میں اس قدر بڑی تعداد میں تکفیری دہشت گرد اور دہشت گرد مراکز کا وجود بذات خود اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حکومت کے ساتھ ان کے خفیہ تعلقات استوار تھے۔ لیکن کیا ترکی نے حقیقی طور پر اپنی پالیسی میں تبدیلی ایجاد کی ہے اور داعش کو ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے؟ اگر اس سوال کا جواب "ہاں" میں ہے تو اس واضح تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟ اور اگر اس سوال کا جواب "نہ" میں ہے تو رجب طیب اردگان کیا کھیل کھیل رہے ہیں؟ لہذا اس سوال کے جواب میں دو مفروضے پائے جاتے ہیں:

الف)۔ پہلا مفروضہ یہ ہے کہ رجب طیب اردگان نے اپنی پالیسی میں حقیقی تبدیلی ایجاد کرتے ہوئے تکفیری دہشت گرد عناصر کے خاتمے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس تناظر میں درج ذیل نکات اہم ہیں:
1۔ اگر اس مفروضے کو درست جان لیں تو کہیں گے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی جانب سے گذشتہ چند سالوں کے دوران انتہائی خوفناک مجرمانہ اقدامات کے ارتکاب کے پیش نظر یہ گروہ ایک نفرت آمیز اور بدنام گروہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ کوئی بھی شخص، حکومت یا گروہ اس آدم خور دہشت گرد گروہ کی اعلانیہ اور رسمی طور پر حمایت کرنے کیلئے تیار نہیں مگر بعض حکومتیں جو چوری چھپے اور مخفیانہ انداز میں اپنے سیاسی مفادات کی خاطر اس تکفیری دہشت گرد گروہ کی حمایت اور مدد کرنے میں مصروف ہیں۔ تمام سیاسی ماہرین اور تجزیہ کار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ داعش جیسے تکفیری دہشت گرد گروہ کی سرپرستی کرنے والے ممالک کا اصلی اور بنیادی ہدف اسلامی جمہوریہ ایران کی سربراہی میں اسلامی مزاحمتی بلاک کو ختم یا کمزور کرنا تھا۔

دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ داعش کے بانی نہ صرف خطے میں اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں بلکہ یہ تکفیری دہشت گرد گروہ ان کے کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے اور پاگل ہاتھی کی طرح ہر طرف تباہی اور بربادی مچانے میں مصروف ہے جس کی واضح ترین مثالیں فرانس کے شہر "چارلی ایبڈو" اور ترکی کے قصبے "سوریچ" میں انجام پانے والے دہشت گردانہ اقدامات کی صورت میں دیکھی جا ساکتی ہیں۔ لہذا داعش کے بانی اب اس نتیجے تک پہنچ چکے ہیں کہ اس پاگل ہاتھی کا خاتمہ ضروری ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ داعش کی تشکیل کے وقت بھی اسے اس لئے نہیں بنایا گیا تھا کہ وہ ہمیشہ  کیلئے موجود رہے کیونکہ ایسا گروہ جس کا مقصد اسلامی حکومت یا خلافت کا قیام ہو کبھی بھی اتنے بڑے پیمانے پر غیرانسانی اقدامات انجام نہیں دیتا اور ان کی ویڈیو بنا کر نشرواشاعت نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی حکومت یا سیاسی نظام کے قیام کی بنیادی شرط عوام کی حمایت اور توجہ کا حصول ہے۔ اگر ایک گروہ اپنی تمام تر توانائیاں عوام کو خوفزدہ کرنے اور ان میں دہشت پھیلانے میں صرف کر رہا ہے تو اس کا مقصد ہر گز ایک سیاسی نظام کا قیام نہیں ہوسکتا۔

مختصر یہ کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی جانب سے اپنے تعین کردہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنائے جانے میں مکمل ناکامی اور غیر انسانی اقدامات کی بدولت عالم اسلام اور دنیا میں شدید بدنامی کے باعث اب ترکی اس سے مقابلے کا فیصہ کر چکا ہے تاکہ اس طرح ایک طرف اس دہشت گرد گروہ کی حمایت کا داغ اپنے دامن سے دھو سکے اور دوسری طرف داعش سے خود کو درپیش خطرات کا مقابلہ کر سکے۔ ترکی کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ کے آغاز کا مقصد اس دہشت گرد گروہ کی حمایت کے نتیجے میں خطے میں کھوئی ہوئی مقبولیت اور اثرورسوخ کو بحال کرنا ہے۔

2۔ ترک حکومت کی جانب سے داعش سے متعلق پالیسی میں یو ٹرن کی ایک اور وجہ ملک میں منعقد ہونے والے حالیہ انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔ حال ہی میں ترکی میں انتہائی اہم پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہوا ہے۔ حکمران جماعت انصاف و ترقی نے اگرچہ ان انتخابات میں بھاری ووٹ حاصل کئے ہیں لیکن وہ ماضی کی طرح پارلیمنٹ میں بھرپور اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے لہذا اب وہ مستقل طور پر نئی حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ اب رجب طیب اردگان کے سامنے صرف دو راستے ہیں: ایک یہ کہ ایک اشتراکی اور کمزور حکومت تشکیل دے، جو ملک کی اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر ان کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے حق میں نہیں، اور دوسرا یہ کہ نئے پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کروایا جائے۔ مختلف سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر پارلیمانی انتخابات دوبارہ منعقد کئے جاتے ہیں تو کئی وجوہات کی بنا پر انصاف و ترقی پارٹی کو پہلے سے بھی کم ووٹ ملیں گے۔ لہذا ان حقائق کے پیش نظر رجب طیب اردگان اپنی عوامی مقبولیت میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترکی کے سرحدی قصبے سوریچ میں داعش کی جانب سے خودکش بم دھماکے کے فورا بعد اس تکفیری دہشت گرد گروہ کے خلاف ترکی کی جانب سے ہوائی حملے شروع ہو جاتے ہیں اور ان حملوں کا مقصد پی کے کے اور داعش کا خاتمہ بیان کیا جاتا ہے۔ اس سارے منصوبے کا مقصد رجب طیب اردگان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ کرنا ہے تاکہ نئے پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کی صورت میں ان کی جماعت کو پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت حاصل ہو سکے۔

ب)۔ دوسرا مفروضہ جو بعض دیگر تجزیہ کاروں کی نظر میں حقیقت سے زیادہ قریب ہے وہ یہ ہے کہ ترک حکومت کی پالیسی میں کوئی بنیادی اور بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوئی اور تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف ترکی کے ہوائی حملے صرف عارضی طور پر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ترک حکومت کو ابھی تکفیری دہشت گردوں کی ضرورت ہے۔ اس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں:
داعش اور دوسرے تکفیری دہشت گرد عناصر ترک حکومت کے ہاتھ میں پی کے کے کے خاتمے، شام کی سرزمین میں داخل ہونے اور نو فلائی زون کی برقراری کیلئے بہت اچھا بہانہ اور ہتھکنڈہ ہے۔ ترکی کی سرحد پر واقع شام کے علاقے میں نو فلائی زون کا قیام وہ امر ہے جس کی امریکہ بھی کھل کر حمایت کرتا نظر آتا ہے۔ ترک اور امریکی حکام اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ان میں شام کی سرزمین پر فوجی کاروائی انجام دینے کے بارے میں معاہدہ طے پا چکا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے ترکی نے شام کے علاقے میں نو فلائی زون کے قیام کے عوض امریکہ کو اینجرلیک فوجی اڈہ دینے کی پیشکش کی ہے۔ امریکہ اب تک شام کے شمالی حصے میں نو فلائی زون کے قیام کی شدید مخالفت کرتا آیا ہے۔

لہذا ترکی کی جانب سے داعش کے خلاف حالیہ ہوائی حملوں کا اصلی مقصد داعش کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ ان کا مقصد داعش کو شام کے علاقے حلب سے باہر نکالنا ہے۔ یاد رہے کہ شام میں بحران کے آغاز سے دنیا کے کم از کم 100 ممالک سے ہزاروں کی تعداد میں تکفیری دہشت گرد اس ملک میں اکٹھے کر دیے گئے ہیں جن کا واحد کام عام افراد کو قتل کرنا ہے۔ یہ دہشت گرد حتی اپنے اوپر بھی رحم نہیں کرتے اور خودکش حملوں کے ذریعے ایکدوسرے کا قتل عام کرتے ہیں۔ ترکی نے شام کے شمالی حصے میں داعش کے خلاف ہوائی حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد محدود پیمانے پر تکفیری دہشت گردوں کا خاتمہ ہے۔

نتیجہ یہ کہ خطے میں موجود اسلامی مزاحمتی بلاک اور کردوں کو کمزور کرنا رجب طیب اردگان کی قلبی آرزو ہے۔ ترکی کے حالیہ فوجی آپریشن کے بارے میں تمام خبروں اور تجزیوں کا نتیجہ بھی یہی نکلتا ہے۔ رجب طیب اردگان نے اپنی قلبی آرزو کی تکمیل کیلئے ملک کو ایک ایسی خوفناک جنگ میں جھونک دیا ہے جس کا آغاز تو ترکی کر چکا ہے لیکن اس کا انجام شاید ترکی کے کنٹرول میں نہ رہے۔ ترکی آج اسی راستے پر گامزن ہے جس پر آل سعود 4 ماہ قبل گامزن ہوا تھا اور ترکی بھی اسی صورتحال سے دچار ہونے کے قریب ہے جس کا تجربہ آل سعود گذشتہ چار ماہ سے کر رہی ہے۔ آل سعود رژیم نے بھی اسلامی مزاحمتی قوتوں کو کمزور کرنے کی خاطر یمن پر حملہ کیا۔ لیکن دونوں جنگوں میں امریکہ کا کردار انتہائی واضح ہے۔ آل سعود اور ترک حکومت دونوں اپنے ہی بنائے ہوئے جال میں گرفتار ہو چکے ہیں اور ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنا اتنا آسانی سے ممکن نہ ہو گا۔ آج آل سعود رژیم یمن کی دلدل سے باہر نکلنے کا عزت مندانہ راستہ ڈھونڈ رہی ہے اور مستقبل قریب میں ترک حکومت بھی ایسی ہی صورتحال کا شکار نظر آئے گی۔ ترکی اور سعودی عرب دونوں امریکی سازش کا شکار ہو چکے ہیں اور طے شدہ منصوبے کے تحت امریکہ اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔

تحریر: جعفر بلوری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲