اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مشہد مقدس میں منعقدہ دنیا کے مسلمان ڈاکٹروں کی آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے اس شہر کے میئر نے عالم اسلامی کو لاحق مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کانفرنس میں موجود ڈاکٹروں کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ جس طرح انسان کو بیماری کے عالم میں علاج کی ضرورت ہے اسی طرح سماج اور پھر عالم اسلام کو بھی علاج اور معالجہ کی اشد ضرورت ہے جب وہ زخموں سے چور چور ہو جائے انہوں نے کہا: آپ ڈاکٹر لوگ صرف لوگوں کے جسموں کا علاج کرتے ہیں لیکن آج عالم اسلام بھی مریض اور زخموں سے چور چور ہے اور اب اس کے علاج کی بھی فکر کرنا ہو گی۔
انہوں نے عالم اسلام کے جسم کو کینچی کے دو پارٹوں کے ذریعے کاٹے جانے کی طرف اشارہ کیا اور کہا: عالم اسلام کے پیکر کو کاٹنے والی کینچی کا ایک پارٹ عالمی استکبار اور صیہونیست ہے اور دوسرا اندرونی خونخوار نام نہاد مسلمان۔
’’صولت مرتضوی‘‘ نے یمن کے مظلوم عوام پر جاری سعودی جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کے زخموں کا ایک نمونہ یمن ہے کہ جہاں نہ عورتوں کو معاف کیا جا رہا ہے نہ بچوں کو نہ بوڑھوں کو اور نہ نوجوانوں کو۔
انہوں نے آخر میں اس کانفرنس کو شرکاء کے لیے ان مسائل پر غور کرنے اور ان کا راہ حل تلاش کرنے کے لیے ایک بہترین موقع قرار دیتے ہوئے ’’سعدی شیرازی‘‘ کا یہ شعر قرائت کیا:
بنی آدم اعضای یکدیگرند / که در آفرینش ز یک گوهرند
چو عضوی به درد آورد روزگار / دگر عضوها را نماند قرار
ترجمہ: آدم کی اولاد ایک بدن کے اعضاء ہیں کہ جو خلقت میں ایک ہی گوہر سے وجود میں آئے ہیں جب کسی ایک عضو کو درد ہوتا ہے تو بدن کے دیگر اعضا کبھی بھی چین و سکون سے نہیں رہ سکتے۔
واضح رہے کہ مسلمان ڈاکٹروں کی آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں میں منعقد کی جا رہی ہے اس کانفرنس میں ۳۰۰ سے زائد شیعہ اور سنی ڈاکٹروں نے شرکت کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲