اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی وزیر خارجہ 'محمد جواد ظریف' اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کی سربراہ فدریکا موگرینی نے ایک ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا.
اسلامي جمہوريہ ايران كے دارالحكومت تہران ميں ايك نشست كے دوران دونوں عہديداروں نے اس بات پر اتفاق كيا كہ ايران اور يورپي يونين كے درميان اعلي سطحي مذاكرات كا ايك نيا دور شروع ہونا چاہيے.
محمد جواد ظريف نے فدريكا موگريني كے ساتھ ايك پريس كانفرنس ميں كہا كہ آج ہم نے يہ فيصلہ كيا ہے كہ ايران اور يورپي يونين كے درميان مذاكرات كا ايك نيا دور شروع كريں گے جنہيں ہم اعلي سطحي مذاكرات كہتے ہيں.
انہوں نے مزيد كہا كہ يہ مذاكرات نائيبين كي سطح سے شروع ہوں گے اور وزارتي سطح تك ہوں گے ان مذاكرات ميں توانائي، نقل و حمل، تجارت، ماحول، انساني حقوق اور منشيات كي اسمگلنگ كے خلاف مہم ان تمام مسائل پر بات چيت ہو گي.
انہوں نے اس موقع پر مزيد كہا كہ انتہا پسندي، فرقہ واريت اور دہشت گردي مشرق وسطي اور يورپي يونين دونوں ميں تشدد كا باعث بن رہے ہيں.
ايراني وزير خارجہ نے اميد ظاہر كي فدريكا موگريني كے دورہ ايران سے باہمي احترام پر مبني تعلقات كا آغاز ہو گا.
يورپي يونين كے خارجہ پاليسي كي سربراہ فدريكا موگريني نے كہا كہ ايران اور گروپ 1 + 5 (امريكي، روس، چين، فرانس، برطانيہ اور جرمني) كے درميان جوہري معاہدے سے يہ ثابت ہوتا ہے كہ سفارتكاري كامياب ہو سكتي ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ يہ معاہدہ نہ صرف دستخط كرنے ميں بلكہ عمل كرنے ميں بھي تاريخي ہو گا.
يورپي يونين كي خارجہ پاليسي كي سربراہ 14 جولائي كو ويانا ميں ايران اور چھ عالمي طاقتوں كے درميان حاليہ جوہري معاہدے كو لاگو كرنے پر بات چيت كے لئے ان كي نائب ہيلگا شمٹ كے ہمراہ سعودي عرب سے منگل كے روز تہران پہنچيں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲