22 جولائی 2015 - 14:46
ایرانی جوہری معاہدہ اور نیتن یاہو کی بو کھلاہٹ و ہنگامہ خیزی

نیتن یاہو نے سعودی عرب ،قطر، لاطینی امریکہ غرض دنیا کے ہر کونے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے مدد کی طلب کی لیکن ہرجگہ اسے اسلامی جمہوریہ ایران کی مخلصانہ کاوشوں کی وجہ سے دھتکارا گیا اور آخر کار ناکام ہوکر اسے منھ کی کھانی پڑی ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جہاں ایک طرف تمام دنیا چھ عالمی طاقتوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طویل جوہری تنازعے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے خواہاں اور منتظر تھے تو دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کو لیکر ہنگامہ خیزی اور بات کا بتنگڑ بنانے میں مصروف عمل تھے ۔

تین سال پہلے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کررہا ہے تو اسکی بےتکی اورفضول باتوں کی طرف کسی نے بھی کان نہیں دھرا یہاں تک اسکے اپنے امریکی دوستوں نے بھی اسکی اس بے معنی بیان بازی کی طرف کوئی  توجہ مرکوز نہیں کی اور کچھ امریکی سیاستدانوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ نتین یاہو کے دن اب ختم ہونے والے ہیں کیونکہ اسکی جاسوسی ،مکاری ،عیاری اور دھوکے بازی اب سب پر عیاں ہوچکی تھی جب امریکیوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری معاہدے کے متعلق کہا کہ  تہران کے جوہری تنازعے کا جنگ کے بجائے مذاکرات سے ہی ثمر آور حل نکالا جاسکتا ہے تب تک نیتن یاہو دن کے اُجالے میں ایران پر فوجی آپر یشن کے خواب دیکھ رہے تھے    ۔

لیکن امریکہ کے اس اعلان کے بعد اسکا وہ خواب بھی چکنا چور ہوگیا تو نیتن یاہو نے یہ کہہ کر ہنگامہ برپا کیاکہ وہ امریکی حمایت کے بغیر ہی اسلامی جمہوریہ ایران پر فوجی حملہ کریں گے  لیکن اپنے ہی فوج کے کمانڈروں نےاسے اس خواب سے بیدار کیاکہ اگر اس نے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کرنے کی حماقت کی تو یہ اسرائیل کی بربادی اور خاتمے کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ اسرائیلی فوجی کمانڈروں کے مطابق صیہونی حکومت کے پا س اتنی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ تہران کا بال بھی اکھاڑ سکے مگرنااہل اور ناسمجھ لوگوں کے ذہن میں کوئی بات اُتارنا بہت ہی مشکل ہے اور یہی حال نیتن یاہو کا بھی ہے کیونکہ اس وقت بھی انکی سمجھ میں یہ نہ آیا کہ اسکے دن ختم ہوگئے ہیں ۔

بعد ازاں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ فلسطین سے کچھ امریکی راکٹوں کا استعمال کرکے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ  اسلامی جمہوریہ ایران کے القسام راکٹ سے اسرائیل پر حملہ کیاگیا  لیکن یہ بہانہ بازی بھی انکے کام نہ اسکی کیونکہ القسام راکٹ اتنی دوری تک وار کرہی نہیں سکتے اور اس بات سے تمام دنیا بالکل باخبر تھی اسکے بعد اسرائیلی صیہونی حکومت نے فلسطین پر جنگ مسلط کرکے غزہ میں بچوں اور عورتوں سمیت ہزاروں افراد کی جانوں سے کھلواڑ کیا اور غزہ میں جب صیہونی حکومت کے انسانیت سوز جرائم عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے منظر عام پر آئے توتمام دنیا کے لوگوں نے غزہ اورفلسطین کے دوسرے علاقوں پر اسرائیلی جارحیت کی کڑی الفاظ میں مذمت کی اور دنیا کے ہر کونے سمیت اسرائیل میں بھی نیتن یاہو کے خلاف لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کرکے اسے نااہل قرار دیکر حکومت سے دستبردار ہونے کی مانگ کی ۔

مگر نتین یاہو جوکہ مسلمانوں کے خون کا پیاسا ہے اور جوکہ ایک مکار اور نااہل وزیراعظم ہے نے اس کی پروا کئے بغیر اسرائیل کی سب سے زیادہ شدت پسند تنظیم جوکہ نہ صرف مسلم ممالک میں ناجائیز طور پر آباد ہیں بلکہ اسرائیل میں عیسائی گرجا گھروں پر بھی حملوں میں ملوث ہیں کے ساتھ ایک مستحکم اتحادکے ذریعے حکومت قائم کی ۔

ملک میں حکومت  تشکیل دینے کے بعد نتین یاہو اسلامی جمہوریہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدے کو سبوتاژ کرنے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی مکارانہ سازش لیکر امریکی کانگریس کے اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے بے گانے محفل میں عبداللہ دیوانے کی طرح پہنچ گئے تاکہ اسرائیلی نواز امریکی سینئٹروں کی داررسی حاصل کرسکے لیکن نہ ہی امریکی صدربارک اوبامہ نے ان سے ملاقات کی زحمت گورا کی نہ ہی امریکی عوام نے اسکی خاص خاطر  داری کی اورنہ ہی اسرائیلی نواز سنیٹئروں نے اسکی ہنگامہ آرائی ،مکاری اور عیاری سے کوئی دلچسپی دکھائی اوروہاں سے بھی اُسے بے عزت ہوکر خالی ہاتھ واپس آنا پڑا ۔

آسٹریا کی دارالحکومت ویانا میں چھ عالمی طاقتوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان جوہری تنازعے اور تہران کے خلاف عائد پابندیوں کے خاتمے کے معاہدے کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو اپنی ہنگامی سازی اور افراتفری سے بازنہیں آرہے ہیں ۔

نیتن یاہو نے سعودی عرب ،قطر، لاطینی امریکہ غرض دنیا کے ہر کونے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے مدد کی طلب کی لیکن ہرجگہ اسے اسلامی جمہوریہ ایران کی مخلصانہ کاوشوں کی وجہ سے دھتکارا گیا اور آخر کار ناکام ہوکر اسے منھ کی کھانی پڑی ۔

دنیا میں ہرجگہ سے ناکام ہوکر آخر کار 12 جولائی کو اس نے اپنی کابینہ سے خطاب کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران پر تسلط پسندانہ ہونے کا الزام عائد کیا جبکہ تما م دنیا اس بات سے باخبر ہےکہ 1967 ءسے اسرائیل نے ہی فلسطینی زمین کے ایک بڑے حصے پرناجائز  قبضہ کررکھا ہے اور اس حکومت جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یاسلامتی کونسل کی طرف سے منظور قرار دادوں کی دھجیاں اُڑائی ہیں  اور جس نے فلسطینی زمین پر آبادکاری کو ناجائیز طریقے سے جاری رکھا ہو کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کی قوم اور حکومت کو تسلط پسندانہ جیسے الزامات عائد کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے اورمذکورہ بالا حقائق کی بنیاد پر ہر کوئی اس بات سے متفق ہے کہ نتین یاہو کی جابر و ظلم حکومت اور نااہل شخصیت کا زمانہ ختم ہوچکا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲