22 جولائی 2015 - 12:52
ایران کا دفاعی اور میزائل پروگرام ہرگز جوہری معاہدے کی قرارداد میں شامل نہیں: عباس عراقچی

سيد عباس عراقچي نے ايران جوہري معاہدے كے مثبت اثرات كو بيان كيا كہ اس سے ايران اور يورپي ممالك كے درميان تعلقات كو مزيد وسعت ملے گي،

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سنئیر ایرانی جوہری مذاکرات کار نے مذاکرات کے دوران رہبر معظم انقلاب اسلامی کی ہدایات اور مکمل حمایت کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتکاروں نے اس سارے عمل کو رہبر انقلاب کی جانب سے تعین کی گئی ریڈ لائنز کے مطابق آگے بڑھایا.

ان خيالات كا اظہار نائب ايراني وزير خارجہ 'سيد عباس عراقچي' نے بدھ كے روز صحافيوں كے ساتھ گفتگو كرتے ہوئے كيا.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ايراني حكومت پابندياں اٹھنے كے بعد رونما ہونے والي صورتحال كو كنٹرول كرنے كے لئے خصوصي منصوبے اور اقدامات كرے گي.
انہوں نے مزيد كہا كہ جوہري معاہدے كے مفاد پر عمل درآمد كرنے كے حوالے سے ہمارے لئے دوسرے فريق كا رويہ اہم ہے.
نائب ايراني وزير خارجہ نے اس سوال پر كہ اگر امريكيوں نے ايران جوہري پروگرام پر عائد 10 سالہ پابندي كي معياد كو 15 سال تك بڑھادے تو اس صورت ميں ايران كي كيا پوزيشن ہوگي كے جواب ميں كہا كہ ايسا بالكل نہيں ہوسكتا كيونكہ سلامتي كونسل ميں دو دن پہلے پاس ہونے والي قرارداد ميں تمام باتيں اور نكات واضح ہيں.
ايك سوال كا جواب ديتے ہوئے عراقچي نے كہا كہ جوہري معاہدے كا ہرگز يہ مطلب نہيں ہے كہ ايران اور امريكہ كے درميان تعلقات بحال ہوگئے ہيں.
انہوں نے مزيد كہا كہ اس ميں كوئي شك نہيں كہ جوہري معاہدے كے بعد ايران كي خارجہ پاليسي مزيد مستحكم ہوگي اور اس ميں علاقائي ممالك بالخصوص ہمسايہ ممالك كے ساتھ تعلقات كو فروغ ديا جائے گا.
سيد عباس عراقچي نے ايران جوہري معاہدے كے مثبت اثرات كو كچھ يوں بيان كيا كہ اس سے ايران اور يورپي ممالك كے درميان تعلقات كو مزيد وسعت ملے گي، يورپي يونين كي چيف پاليسي اور فرانسيسي وزير خارجہ جلد تہران كا دورہ كريں گے اور ايران كے تعلقات چين اور روس كے ساتھ مزيد آگے بڑھيں گے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲