16 جون 2015 - 09:42
اسلام مکمل طور پر فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف ہے

مصر کے ایک ممتاز اہلسنت عالم دین نے شیعہ مسلمانوں پر داعش کی حملوں کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام مسلمانوں کو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لبنان کی ٹی وی چینل المیادین کے ساتھ انٹرویو میں جمعیت الازھر  کے پروفیسر’’شیخ ڈاکٹر احمد کریمہ‘‘ نے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دین اسلام مکمل طور پر فرقہ وارنہ تشدد و فرقہ واریت کے خلاف ہے ۔

موصوف عالم دین نے کہاکہ اگر ہم ابتدائی اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض افراد نے سیاست کی بنیاد پر مسلمانوں کے مابین بھی اختلافات کے بیج بوئے۔

مصر کے سنی عالم دین نے اس بات کی وضاحت کی کہ اموی خاندان  نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کیے جوکہ صفین، نہروان اور کربلا جیسی جنگوں کی بنیاد بنے ۔

انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے امریکہ و اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں مسلمانوں کو  تقسیم کرنے میں جھٹی ہوئی ہیں اور اب تک مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔

انہوں نے داعش، بوکوحرام اور طالبان کے اقدامات کی مزمت میں کہا کہ یہ گروہ خود کو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں اس گروہ کا اسلام سے دور تک کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔

مصر میں بعض عرب ممالک کی جانب سے وہابیت کی حمایت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلفی وہابی مصری شیعوں کے خلاف جنگ کرنے کا فرمان دیتے ہیں جبکہ سنی مسلمانوں کے مقابلے میں  مصری شیعہ آبادی اوران کے اثر و رسوخ نہایت ہی کم ہیں  ۔

انہوں نے کہا کہ تکفیری یہ دعویٰ کرتے ہیں  کہ اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ ان گرہوں کے اعمال و افعال اسلام کے برخلاف ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲