اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ علامہ عابد حسینی نے اسلام ٹائمز کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران کہا ہے کہ مقامی حکومت اہلیان کرم کے ساتھ ظلم اور عدم مساوات سے پیش آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طوری بنگش قبائل کو معمولی سے جرم میں فوری طور پر گرفتار کیا جاتا ہے، جبکہ اس سے کئی گنا سنگین جرائم کی صورت میں دیگر قبائل سے مکمل طور پر چشم پوشی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوشہرہ میں طوری قبیلے کے حبیب علی کو گاڑی سے اتار کر قتل کردیا گیا۔ لیکن اہلیان علاقہ کو حدود ذمہ داری کے تحت گرفتار نہ کیا گیا۔ جبکہ اسی طرح کے ایک کیس میں علیشاری کے عوام کو ایک سال تک ناحق تنگ کیا جاتا رہے۔ وہاں حدود ذمہ داری کا قانون لاگو کرتے ہوئے نہ صرف علی شاری کے درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا بلکہ پیواڑ کے لوگوں کو بھی نہ بخشا گیا۔
جبکہ بوشہرہ کے کیس میں مقبل کا ایک شخص، جو کہ ایف سی میں ملازم بھی ہے، ملوث تھا تاہم اس حوالے سے نہ تو مقبل کے افراد کو کچھ کہا گیا، نہ ہی بوشہرہ سے کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈنڈر کے نور حسین کے بیٹے کے گھر میں رات کے وقت ہیڈ گرنیڈ پھینکا گیا۔ جس سے اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ حکومت انصاف فراہم کرنے اور انکے واضح دشمنوں کی گرفتاری کی بجائے اسے زخمی حالت میں گرفتار کرکے ڈی آئی خان لے گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومتیں خصوصا کرم ایجنسی کی مقامی انتظامیہ پورے علاقے کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ وہ ایک مخصوص فریق کی نمائندہ حکومتیں ہوا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مہاجرین کی آباد کاری کے سلسلے میں بھی جانبداری کا مظاہرہ کررہی ہے۔ انہوں واضح انداز میں کہا کہ طوری بنگش کے بیدخل افراد کی بحالی سے پہلے کسی کی بحالی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲