اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ہفتے کے دن ہفتہ ہلال احمر کی مناسبت سے تہران میں مہربان انسان اور پرسکون دنیا کے زیر عنوان منعقدہ سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت عالمی سیاسی حالات کا ادراک نہیں رکھتی ہے اور ہمیشہ سے اپنے ملک کے تمام مسائل تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے ڈالروں کے ذریعے حل کرتی رہی ہے اس نے اس باطل خیال کے ساتھ یمن پر حملہ کیا کہ وہ بم کا انتخاب کر کے اپنے ملک کو طاقتور بنا سکتی ہے اور علاقے میں اپنے اہداف حاصل کر سکتی ہے- صدر مملکت نے یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ اگر یمن کے بجائے کسی اور ملک پر حملہ کیا گیا ہوتا تو عالمی ریڈ کراس اور ہلال احمر سوسائٹی کیا کرتی؟ کہا کہ تیسری دنیا کے ایک ایسے ملک پر اس کے ہمسائے ملک نے بزدلانہ حملہ کیا ہے جو بہت سی مشکلات کا شکار ہے- ڈاکٹر حسن روحانی نے تاکید کی کہ اگر یمنی عوام کے دکھ درد کو اسی طرح محسوس نہ کیا جائے جس طرح دوسرے ممالک کے دکھ درد کو محسوس کیا جاتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ عالمی ریڈ کراس کے قوانین کا احترام نہیں کیا گیا ہے- اسلامی جمہوریہ کے صدر نے کہا کہ ایران کی ہلال احمر سوسائٹی عالمی سطح پر امداد رسانی کے سلسلے میں اہم کردار اور مؤثر آواز کی حامل ہے اس لئے اسے عالمی ریڈ کراس کو یمن کے معاملے میں شریک کرنا چاہئے- صدر مملکت نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مقصد یمن کے مظلوم عوام کی مدد کرنا ہے اور عالمی ریڈ کراس کو اس سلسلے میں مدد کرنی چاہئے-
.......
/169