اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمن میں پانچ روزہ فائربندی کے نفاذ سے اتفاق رائے کے بارے میں سعودی حکام کے دعوے کے باوجود سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے شمالی علاقوں پر شدید حملے کئے ہیں- اسکائی نیوز چینل کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے جمعرات کی رات یمن کے صوبے صعدہ کے دسیوں علاقوں پر بمباری کی جبکہ صوبے صعدہ پر سعودی عرب کے توپ خانے کی گولہ باری بھی جاری رہی- جمعرات کی رات اور جمعے کی علی الصبح، یمن پر ہونے والی سعودی جارحیت، اس ملک کے خلاف ہونے والے ابتک کے، شدید ترین حملے شمار ہوتے ہیں جن میں درجنوں افراد شہید ہوئے ہیں- سعودی جنگی طیاروں نے صوبے صعدہ میں، یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے بانی سید حسین بدرالدین الحوثی کے مقبرے کو بھی نشانہ بنایا- دوسری جانب ایسی حالت میں کہ یمن کے صوبے مآرب کے مختلف علاقوں سے دہشتگردوں کا صفایا کرنے کے لئے یمنی فوج اور عوامی کمیٹیوں کی کاروائیاں جاری ہیں، سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے اس صوبے میں واقع علاقوں، الزور اور الدحلہ پر دہشتگردوں کی حمایت میں بمباری کی ہے- یمن پر گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران یہ سعودی حملے ایسی حالت میں جاری رہے ہیں کہ سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے جمعرات کے روز ریاض میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دعوی کیا تھا کہ سعودی عرب، یمنی عوام کے لئے امدادی کاروائیوں میں سہولت سے متعلق پانچ روزہ جنگ بندی کے مسئلے پر غور کر رہا ہے- دریں اثنا العالم نے رپورٹ دی ہے کہ یمن کے شہری اتحاد کی ترجمان فاطمہ الشریف نے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کا جائزہ لینے پر مبنی شہری اتحاد کے اعلان کے مطابق، سعودی طیاروں کی بمباری کے وقت صوبے صعدہ پر سفید دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا ہے۔ یمن کے شہری اتحاد کی ترجمان نے کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں صوبے صعدہ کے بعض علاقوں پر آل سعود کی بمباری کے مناظر کا مشاہدہ کرنے کے بعد، ماہرین کا کہنا ہے کہ صعدہ پر بمباری کے بعد آسمان پر جو سفید دھوئیں نظر آئے ہیں وہ فاسفورس بموں کے ہیں۔ یمن پر آل سعود نے اپنے وسیع حملے جاری رکھتے ہوئے بیالیسویں دن بھی یمن کے صوبوں صعدہ،ذمار اور صنعا کو نشانہ بنایا ہے ۔ یمن کے شہری اتحاد کی ترجمان کے بقول، آل سعود کے حملوں میں اب تک تین ہزار سے زیادہ شہری شہید ہوئے ہیں جبکہ چھے ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس ہفتے کے اوائل میں رپورٹ میں کہا تھا کہ سعودی اتحاد نے یمن پر حملے میں امریکی ساخت کے کلسٹر بم استعمال کئے ہیں-
ادھر یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ ایک ہفتے کے دوران، یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی عرب کے حملوں میں تین سو سینتیس یمنی شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں- شرف لقمان نے کہا ہے کہ ان حملوں میں دو ہزار چھے سو ساٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ اس عرصے کے دوران سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن کے مختلف صوبوں پر پانچ سو تیرہ، حملے کئے- اس ترجمان نے اسی طرح کہا کہ سعودی جنگی طیاروں کے حالیہ حملوں میں پچاس سے زائد رہائشی مکانات، متعدد اہم تنصیبات، کئی سرکاری عمارتوں، تین ہوائی اڈّوں، ایک مسجد، ایک ہسپتال، دو مسافر بردار طیاروں، چار پلوں اور ایک ڈیم کو شدید طور پر نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوئے-
۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲