اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ
ابنا ـ کے مطابق، عالمی ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ مطابق ولیم برنس نے کہا ہے کہ خطے
میں کشیدگی میں اضافے کا خطرہ حقیقی ہے، اسرائیل بہت احتیاط سے ایرانی حملے کے
جواب کا سوچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل
کے احتیاط سے سوچنے کے باوجود غلط فیصلے کا خدشہ ہے، اور کوئی بھی غلط حالات کو
معمول پر لانے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، ہمیں خطے میں جنگ کے حقیقی خطرات کا سامنا
ہے۔
ولیم برنس کا کہنا ہے کہ ایرانی
حملے نے ایران کی فوجی صلاحیتوں میں کچھ حدود کو بے نقاب کیا ہے، لیکن ایرانی ہتھیار
مؤثر ہیں اور اسرائیل امریکا کو ایرانی عسکری صلاحیتوں کو سنجیدگی سے لینے کی
ضرورت ہے۔
سی آئی اے کے چیف نے مزید
کہا کہ غزہ مذاکرات میں شامل رہنماؤں کو سمجھنا ہو گا کہ بہت ہو گیا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ
غزہ میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے طویل مدتی استحکام کو مدِ
نظر رکھ کر مشکل فیصلے اور سمجھوتے کرنا ہوں گے۔
برنس نے کہا کہ ہمیں معلوم
ہے کہ اس صورت حال سے توانائی کی منڈی اور عالمی معیشت کو کن خطرات کا سامنا ہے۔
ولیم برنس نے مزید کہا کہ
ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
برنس نے سی آئی لینڈ (Sea Island) جارجیا میں سیکورٹی کانفرنس سے
خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ ایران
جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، کیونکہ اگر ایران نے ایسا فیصلہ کیا تو ہم
فوری طور پر جان لیں گے۔
برنس کا کہنا تھا کہ ایران
نے افزودہ یوینیم کی سطح فوجی سطح کے قریب پہنچا دیا ہے اور وہ بوقت ضرورت فوری
طور پر ایٹم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور صورت حال یہ ہوگی کہ دیگر ممالک کے پاس
رد عمل ظاہر کرنے کے لئے فرصت بہت کم ہوگی۔
لیکن بہر حال ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایران نے 2003 میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے
فیصلے کو معطل کرنے کے فیصلے کو منسوخ کر دیا ہو۔
برنس کا دعوی تھا کہ ایران
نے اپنے میزائل پروگرام کو توسیع دی ہے اور ممکن ہے کہ اس نے ایٹمی وارہیڈ لے جانے
والے میزائل بھی تیار کر لئے ہوں، اور 2018 میں ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی
کے بعد ایران بم بنانے کے لئے ابتدائی مواد تیاری کے حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
110