اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع)
اسمبلی آیت اللہ رضا رمضانی، جو ـ بین الاقوامی سیمینار "اسلام؛ مکالمے اور زندگی کا مذہب" ـ برازیل کے مسلمانوں کی دعوت پر اس ملک کے دورے
پر ہیں، نے لاطینی امریکہ کے شیعہ نوجوانوں کے ایک گروہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہمیں
جان لینا چاہئے کہ آزاد روی اور انکار اخلاقیات (Antinomy) کے
اس دور میں اہل بیت (علیہم السلام) کے معتقدین کی اصل ذمہ داری کیا ہے؟ مغزب،
معاشروں کو آزاد روی، پدرمادر آزادی اور برہنگی میں دھکیلنا چاہتا ہے؛ دوسری طرف
جاننا چاہئے کہ ہمارے ہم عقیدہ لوگوں اور دوسرے نوجوانوں کی نسبت ہماری ذمہ داری
کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مہدی (علیہ السلام) کے منتظرین کے زمرے میں شمار فرمائے؛ مثال کے طور
پر انتظار کے مسئلے میں ہمارے تین اہم
فرائض ہیں: پہلا فریضہ خودسازی اور اصلاح نفس ہے، یوں کہ ہم خودسازی ـ يعنی اپنی
اصلاح اور تعمیر ـ کریں اور روح اور فکر و اخلاق کے لحاظ سے اپنے آپ کو تقویت پہنچائیں؛
دوسرا فریضہ یہ ہے کہ دوسروں کی اصلاح کریں، یوں کہ جہاں تک ممکن ہو دوسروں کی
دستگیری کریں اور دوسروں کی اصلاح بھی کریں؛ اور تیسرا فریضہ ماحول سازی ہے؛ اس
لئے کہ پوری انسانیت عدالت کا ذائقہ چکھ لیں۔
اگر ہم دنیا میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو منظم انداز سے اور تنظیم کے ذریعے آگے بڑھنا ہوگا، کیونکہ اکیلے کام کرنے سے مزید کام نہیں چلتا۔ چنانجہ امام زمانہ (علیہ السلام) بھی اکیلے نہیں آئیں گے اور جب تک کہ آپ کے اصحاب و انصار کی تعداد مکمل نہیں ہوگی، قطعی طور پر ظہور نہیں فرمائیں گے۔
سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران سائنس اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سے ہے، جس کے سائنسی، علمی، ثقافتی، سیاسی اور سماجیاتی لحاظ سے 45 سالہ تجربہ رکھتا ہے۔ ایران 45 سال قبل سائنس اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دنیا کے ستاون ویں نمبر پھر تھا لیکن آج ایران سولہویں نمبر تک پہنچ گیا ہے۔ ایران بعض سائنسی شعبوں میں دنیا کے پہلے 10 ممالک میں شامل ہے۔ ایران کی سائنسی ترقی میں ہر روز اضآفہ ہو رہا ہے اور ایران کی علمی و سائنسی حصولیابیوں کی لاطیتی امریکی نوجوانوں کو منتقلی کا امکان بھی موجود ہے۔ وہ ایران آکر میڈیکل، انجنیئرنگ اور دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
آیت اللہ رمضانی نے اس خطے کے نوجوانوں کی طرف سے بیان شدہ فکرمندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بدقسمتی سے خاندان، سماجیات، ثقافت اور سیاست کے شعبوں میں اہل بیت (علیہم السلام) کی علمی اور عملی سیرت سے حقیقی معنوں میں واقف نہیں ہیں۔ اہل بیت (علیہم السلام) کا طرز زندگی سب کو پہچاننا چاہئے اور یہ طرز زندگی نجات دہندہ ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے انقلاب کے دوسرے قدم کے عنوان سے اپنے اعلامیہ میں سات ہدایات دی ہیں کہ اگر ایک معاشرہ نشوونما پانا چاہئے، تو اسے ان سات ہدایات پر عمل کرنا پڑے گا۔ سب سے پہلی ہدایت سائنسی ترقی ہے، دوسری اخلاق اور معنویت (روحانیت) سے متعلق ہے، تیسری عدل و انصاف کے قیام کا مطالبہ اور چوتھی ہدایت بدعنوانی کے خلاف جدوجہد ہے اور ۔۔۔ ساتویں ہدایت اسلامی طرز زندگی ہے جو کہ جدید اسلامی تہذیب کے قیام کے لئے سافٹ ویئر کا کردار ادا کرے گا۔
انھوں نے کہا: نوجوانوں کو میدان عمل میں آنا چاہئے اور اس کے لئے قوی ارادہ بہت اہم ہے۔ شہید الحاج قاسم سلیمانی کہا کرتے تھے کہ "تم جوانوں کو میدان میں رہنا چاہئے"۔ بے شک دین خدا انسانی نجات کا نسخہ ہے، اور ہمیں دین اور اس کی حقیقت کی طرف پلٹنا چاہئے۔ تمام تر کاموں کا آغاز "کم" سے ہوتا ہے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے مکہ میں نماز جماعت کا آغاز تین افراد سے کیا: آپ(ص) امامت کرتے تھے، اور سیدہ خدیجہ اور امیرالمؤمنین (علیہما السلام) آپ کی اقتدا کرتے تھے، یہ وہ زمانہ تھا کہ آپ نماز کی حالت میں ہوتے تھے اور مشرکین اونٹ کا معدہ آپ کے سر مبارک پر پھینک دیا کرتے تھے۔ لیکن آج دیکھئے کہ نماز جماعت میں شرکت کرنے والے کی تعداد کہاں تک پہنچی ہے؟ اخلاص کی اہمیت غیر معمولی ہے، اور اگر ہم اپنے کام کا درست آغاز کریں، خدائے متعال ہمارا حامی ہوگا اور خدائے متعال مشکل میدانوں میں اپنی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے۔ اس مسئلے کی مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی داستان ہے۔ فرعون کا لشکر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کا پیچھا کر رہا تھا، یہاں تک کہ وہ دریائے نیل [یا بحیرہ احمر] کے ساحل پر پہنچے۔ یہاں موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کے سامنے دریا [یا سمندر] اور پیچھے فرعون کا لشکر تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں نے کہا: ہمارا کام یہیں تمام ہے؛ "فَلَمَّا تَراءَا الْجَمْعانِ قالَ أَصْحابُ مُوسىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ؛ تو جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دکھائی دینے لگیں تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا کہ یقینا ہم پکڑ لئے جائیں گے"۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: "قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ؛ یقینا میرے ساتھ میرا پروردگار ہے جو مجھے صحیح راستے پر ہدایت عطا فرمائے گا"۔
سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے کہا: بجٹ کی کمی جیسے مسائل، ضمنی مسائل ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ کچھ لوگوں نے کم از کم بجٹ سے عظیم کارنامے سرانجام دیئے ہیں؛ کچھ دوسرے ہیں جن کے پاس بڑا بجٹ ہے لیکن وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ہمیں ان راستوں کا متلاشی ہونا چاہئے جن پر گامزن ہو کر ـ نوجوانوں کے شعبے میں ـ لاطینی امریکہ میں کام کریں۔ ان میں سے ایک راستہ سائبر اسپیس اور سوشل میڈیا ہے۔ آج دنیا کا سب سے بڑا ملک سائبراسپیس نامی ملک ہے جہاں دنیا کی 63/2 فیصد ـ یعنی پانچ ارب کی ـ آبادی موجود ہے؛ اور سائبر اسپیس میں فعال افراد کی سب سے بڑی تعداد کا تعلق براعظم امریکہ سے ہے، نوجوان بھی تو سائبراسپیس پر موجودگی کے استاد ہیں، چنانچہ ہمیں اس امکان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110