اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق،
کبھی کربلا کے عظیم واقعے پر گریہ و بکاء زیر بحث ہے اور کبھی اس گریہ و بکاء کے دوام و استمرار کو زیر بحث لایا جاتا ہے جو ایک الگ مسئلہ ہے۔
ابو نعیم اصفہانی حلیۃ الاولیاء میں گریہ اور اشک ریزی کے سلسلے میں روایت کرتے ہیں کہ "امام زین العابدین (علیہ السلام) سے پوچھا گیا کہ آپ اس قدر گریہ کیوں کرتے ہیں؟"؛
آپ نے فرمایا: گریہ کیوں نہ کروں، میں نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
اور پھر فرمایا: حضرت یوسف (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کچھ عرصہ جدا ہوگئے حالانکہ یعقوب(ع) جانتے تھے کہ یوسف(ع) زندہ ہیں، لیکن قرآن کی گواہی کے مطابق، ان کی آنکھیں گریہ و بکاء کی وجہ سے سفید ہوگئیں اور ان کی بصارت ضائع ہونے جا رہی تھی، یا قریب تھا کہ ضائع ہو جاتی، (یوسف ـ 84)، تو اس کے باوجود میں گریہ کیوں نہ کروں؟
مروی ہے کہ امام زین العابدین نے واقعۂ کربلا کے مصائب پر اتنا گریہ کیا کہ آپ تاریخ عالم میں سب سے زیادہ رونے کے حوالے سے مشہور ہونے والے پانچ افراد میں شامل ہوگئے۔ ان پانچ افراد میں سیدہ فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) بھی شامل ہیں۔
چنانچہ روایات کے مطابق، حضرت سیدالشہداء (علیہ السلام) کے مصائب پر گریہ و بکاء کو جاری بھی رہنا چاہئے، با بصیرت بھی ہونا چاہئے، دشمن شناسی کا سبب بھی ہونا چاہئے، ہمارا گریہ ہماری کمزوری کی علامت نہيں بلکہ ظلم و جبر اور انحراف و تحریف کے خلاف احتجاج کے دوام و استمرار کا مظہر بھی ہونا چاہئے۔
البتہ یہ درست ہے کہ عزائے حسینی صرف گریہ و بکاء تک محدود نہیں ہے۔
حسین(ع) کے لئے رونا بہت اچھا ہے، یہ حدیث بھی صحیح ہے کہ جو حسین (ع) کے لئے روئے، رلائے یا رونے کی صورت بنائے جنت اس پر واجب ہے، لیکن بصیرت کی اہمیت کم نہیں ہوتی، دین خدا کا احیاء، استکبار کی قید و بند سے آزادی، ہوس و شہورت اور تکبر و غرور سے مغلوب نہ ہونا، قیام امام حسین (علیہ السلام) کے پیغام میں شامل ہیں۔
امام حسین کو جس چیز نے زندہ جاوید کیا وہ دین اسلام کے احیاء کے لئے اللہ کی راہ میں قدم اٹھانے سے عبارت ہے۔ عشق حسینی کا مطلب یہ ہے کہ امام کے اہداف کی پیروی کی جائے۔ امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا: ہمارے حبدار وہ ہیں جو اللہ کے اطاعت گزار ہیں اور وہ ہمارے دشمن ہیں جو اللہ کے نافرمان ہیں؛ چنانچہ زبانی کلامی محبت اور عملی طور پر اللہ کی نافرمانی کرنے والا دوسروں کو بھی اور اپنے آپ کو بھی دھوکہ دے رہا ہوتا ہے۔ رونا بھی محبت کا اظہار ہے لیکن اسے اطاعت الٰہی کے ساتھ توأم ہونا چاہئے۔
حسینی بننے کے لئے صرف اشک و آہ کافی نہیں ہے، کتنے ہیں وہ جو ماہ محرم کی مجالس میں امام مظلوم کے قیام کی مختلف جہتوں سے واقف ہوکر اس سے سبق لیتے ہیں، اور فردی اور اجتماعی فلاح و سعادت کے لئے اس سبق کو بروئے کار لاتے ہیں؟
اس سوال کا جواب سوگ و عزا کے مختلف پروگراموں اور مراسمات میں مضمر ہے۔ گھروں اور مذہبی مقامات پر مجالس عزا کا انعقاد، ان مجالس میں شرکت، سیاہ لباس پہننا، نذر و نیاز دینا، عزاداروں کی خدمت کرنا اور انہیں ضيافت دینا سب وہ اقدامات ہیں جو محبین اہل بیت(ع) صدیوں سے، پوری دنیا میں، سال بارہ مہینے اور بالخصوص، محرم کے دوران، بجا لاتے ہیں اور عینی شواہد کے مطابق ان کی رونق میں سال بہ سال اضافہ ہو رہا ہے۔
لیکن ان مجالس کا ثمرہ کیا ہے؟
تو کیا حسین(ع) اور حسین(ع) کے منسوبین و اصحاب کی مظلومیت کے لئے گرنے والے آنسو اور سینہ و سر پیٹنے والے ہاتھ نے ہمیں حسین(ع) کی راہ پر ہمیں گامزن کر سکے ہیں؟ پوچھو خود سے اور جواب دو، لکھ کر اور رکھ لو یادگار کے طور پر، اور اس کا جائزہ لیا کرو۔
امام کی تشنگی کے لئے رونا درست، لیکن کیا آپ صرف پانی کے پیاسے ہیں یا غافل انسانوں کی انسانیت کے؟
افسوس کی بات نہیں ہے کہ تقریبا 1400 سال گذرنے کے باوجود دوسرے تو کیا، شیعیان آل رسول(ص) تک قیام امام حسین(ع) اور آپ کی زندگی کے زیادہ تر پہلوؤں سے بیگانہ ہیں۔ امام حسین(ع) شہید ہوئے ہمارا آپ کے لئے رونا بہت اچھا ہے، لیکن دیکھ تو لو امام نے اپے قیام کے مقاصد بیان کئے ہیں اور آپ کے بعد کے ائمہ(ع) نے بھی یہ مقاصد بیان کئے ہیں، رونے کے لئے فضائل بھی بیان کئے ہیں لیکن مقاصد میں گریہ و بکاء شامل نہیں ہے۔ نذر و نیاز دینا قیام کے مقاصد میں شامل نہیں ہے، بلکہ مقصد رہائی اور آزادی، فکری، فردی اور اجتماعی رشد اور نشو و نمو ہے، بالیدگی ہے اور آپ کی راہ مقاومت و استقامت اور ظلم کے خلاف جدوجہد ہے۔
یہ درست ہے اور ایک جان لیوا حقیقت ہے کہ مولا حسین تشنہ لب شہید ہوئے، لیکن آپ کو تصرف تکوینی بھی حاصل تھا اگر محض پانی نہ ہونا آپ کا مسئلہ ہوتا تو آپ اسے بہ آسانی حل کر سکتے تھے، آپ تو غافل انسانوں کی انسانیت کے تشنہ تھے، آپ راہ خدا میں قیام کے وقت لبیک سننے کے پیاسے تھے اور ہیں، ہل من ناصر کی صدا آج بھی تاریخ کی سماعتوں میں گونج رہی دیکھنا چاہئے کہ ہم کس حد تک لبیک گو ہیں حسین(ع) کی اس صدا کے؟
مظلومیت عاشورا کا صرف ایک پہلو ہے
مظلومیت عاشورا کا ایک ہی پہلو ہے تو یقیناً عزاداری اور شعائر عزاداری کا پاس رکھنا بھی تکریمِ عاشورا کا ایک ہی پہلو ہے، اہم پہلو ہے جو بذات خود ایک وسیلہ اور ایک راہ ہے اس لئے کہ قیام حسینی کے تفکر اور دلائل و عوامل زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھا اور سمجھایا جائے۔
معرفت حسینی کیسے حاصل کریں؟
امام حسین(ع) معصوم، دلیر، طاقتور ہستی ہیں جنہیں اللہ کی طاقت کا سہارا حاصل ہے، چنانچہ ہمیں صرف آپ کو ایک مظلوم انسان کی طرح نہیں پہچاننا چائے کہ پیاس بھی تھے، دشمن نے پانی نہیں دیا اور پیاسے شہید ہوئے۔
امام حسین الٰہی انسان ہیں، جنہوں نے علم و عصمت اور طاقت کے ساتھ حرکت کا آغاز کرکے ایک قیام اور انقلاب کو عملی شکل دی۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ امام حسین(ع) کو آپ کی مظلومیت اور عطش و پیاس کے ذریعے مقبول عام بنا دیں، جبکہ اگر ہم [مظلومیت اور تشنگی کے ساتھ ساتھ] آپ کی شان و شوکت اور اپ کے قیام کی عظمت کو آپ کی شناختی دستاویز کے طور پر دنیا والوں کے سامنے رکھیں، تو یقینا یہ آپ کے تعارف کا زیادہ مؤثر انداز ہوگا اور ظلم و ستم کے تلے دبے معاشروں کے لئے حسین(ع) کا یہ پہلو زیادہ دلکش ہوگا۔
امام حسین(ع) کی روشنی میں راہ حریت سیکھو اور سکھاؤ بھی
امام کا راستہ جہاد و رشد و ہدایت اور مقاومت کا راستہ ہے، آپ نے گوشہ عافیت کو منتخب نہیں کیا؛ حالات سے بے اعتنا ہوکر خاموشی اور حق و باطل کے معرکے میں غیر جانبداری کو منتخب نہیں کیا، راہ جہاد میں شرعی فرائض اور اخلاقی ذمہ داریوں سے غفلت نہيں برتی، یہاں تک کہ کربلا میں وقت اذان آن پہنچا تو نماز کے لئے کھڑے ہوگئے، آج کی دنیا ان حقائق کے سننے اور پڑھنے کے لئے بے چین ہیں۔
آج اسلامی معاشروں میں تکبر اور خودغرضی، اور احکام دین اور اخلاق و معنویت کے حوالے سے سستی کچھ زیادہ عیاں ہو رہی ہے، دشمنان اسلام نے اسلام کے بنیاد قرآنی احکام کے خلاف یلغار کر رکھی ہے، ، قرآن کریم کے خلاف یورپیوں کی صف آرائی کے ساتھ ساتھ، ہمارے خاندانی ڈھانچے اور ہماری ماؤں بہنوں کی پاکدامنی اور حجاب و حیا کے خلاف بھی زبردست جنگ چھڑ گئی ہے؛ ہم صرف عزاداری اور رونے اور نذر و نیاز کے ذریعے اس جنگ کا سامنا کرنے سے عاجز ہیں اور صرف امام حسین(ع) کے اعلان کردہ مقاصد اور اعلانات و ابلاغات کی روشنی میں دینی فرائض کے احیاء اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور تمام مردانہ اور زنانہ شرعی احکام کی بحالی کو مطمع نظر بنانا پڑے گا، یہ وہ پیغامات ہیں جن کے لئے امام حسین(ع) نے مصائب و مسائل اور پیاس اور قتل ہونا گوارا کیا ہے، یہ ہمیں سمجھنا ہے حسینی بننے کے لئے۔
مجالس عزا کا ثمرہ اخلاقی عہد و پیمان اور اعتقادات کا بامعنی بننا، ہو
یقیناً کوئی بھی یہ کہنے کی ہمت نہیں رکھتا کہ اشک و گریہ و ماتم و عزا کا کوئی اجر و ثواب نہیں ہے کیونکہ یہ سب معصومین (علیہم السلام) کی تاکیدات میں سے ہیں اور ان کا ثواب بہت زیادہ ہے لیکن عزاداری پر استواری کا اصل ثمرہ یہ ہو کہ ہمیں اخلاقی طور پر احیائے دین کا پابند کر دے اور ہمارے اعتقادات کو گہرائی بخشے۔ مجلس عزائے حسین(ع) کا معنوی ثواب مسلمات میں سے ہے لیکن یہ اس وقت بامقصد و با معنی ہونگی جب ان سے "اجتماعی خودی" کو بھی تقویت پہنچے اور امت کے دنیاوی مسائل کو بھی حل کرنے میں بھی مؤثر ہوں۔
عزائے حسینی کا دنیاوی ثمرہ انسان کے فکری، اعتقادی اور اخلاقی ڈھانچے کی اصلاح ہونا چاہئے
ہمارا کلام حسینی ہونا چاہئے تاکہ امام حسین(ع) ہماری خوش گفتاری سے راضی و خوشنود ہوں اور اپنی خوش گفتاری سے پیغام امام حسین(ع) کو مؤثر انداز سے پیش کر سکیں؛ اور امام کی صحیح شناخت کے لئے آپ کی عملی، اخلاقی اور علمی سیرت، اور مختلف طبقات کے ساتھ آپ کے برتاؤ کی روشوں سے آشنا ہونا ضروری ہے اور سیرت حسینی پر لکھی گئی کتب کا مطالعہ ان تمام جہتوں کی واقفیت کے لئے بہت مؤثر ہے۔
مقصد حسین(ع) کے ادراک کے لئے علم دین کے ہتھیار سے لیس ہونا ضروری ہے
علم دین کا حصول واجب کفائی (یا واجب بالکفایہ) ہے لیکن آج کے دور میں [اس کے وجوب بالکفایہ کو چھیڑے بغیر]، اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دشمنان اسلام کی یلغار بے امان ہے، اور اس یلغار سے نمٹنے کے لئے امام حسین(ع) کی شخصیات کی مختلف جہتوں کا ادراک ضروری ہے؛ یہ سمجھنا کہ کن ترجیحات نے آپ کو قیام کی ترغیب دلائی اور آپ نے بیعت نہیں کی اور بیعت کو ذلت کا مترادف کیوں قرار دیا۔ بے شک سیرت اہل بیت(ع) کی پیروی اور انسانوں کی زندگی کو فلاح و سعادت کی راہ پر منظم کرنے کے لئے ان ہی کی تعلیمات کارگر ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن پہلے سیرت و تعلیمات کا ادراک ضروری ہے اور یہ ادراک علم دین کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
امام خمینی (رضوان اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "محرم اور صفر نے ہی اسلام کو زندہ رکھا ہے" اور امام کے بیان کردہ محرم و صفر سے مکتب اہل بیت(ع) کے فکری اور علمی ورثے کا تحفظ و ترویج مقصود ہے؛ اور عزائے سیدالشہداء معرفت اور کمال کے حصول اور امام حسین اور سیدہ زینب (سلام اللہ علیہما) کی حماسی کردار (Epic character) سے نمونہ عمل حاصل کرنے کی تمہید ہے۔
چنانچہ منبر عزا پر رونق افروز ہونے والے علماء، خطباء اور ذاکرین کو تقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ ساتھ امام حسین(ع) اور اہل بیت(ع) کی سنت و سیرت سے آگاہ ہونا چاہئے، اور ایسی باتیں بیان کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے جو لوگوں کے ذہنوں میں شکوک وشبہات کا سب بن سکتے ہیں، تو یقیناً انہیں حدیث شناسی اور سیرت شناسی کے ہتھیار سے لیس ہونا چاہئے، ورنہ تو وہ کسی وقت بھی کوئی ایسی خطا سرزد ہو سکتی ہے جس کی تلافی پر وقت لگے گا یا پھر ممکن ہے کہ ناقابل تلافی ہو!
آپ پیرو حسین ہو تو آپ کا نحیف اور پیاسا چہرہ کیوں دکھاتے ہو؟
کبھی خطباء و ذاکرین، اور حتی کے بعض مبلغین منبر حسینی پر عاشورا کے پیکرِ تاریخ پر لرزہ طاری کرنے والے عظیم کارنامے بیان نہیں کرتے، جبکہ یہ کارنامے اس تاریخ کو لکھنا پڑے ہیں جو سرکاری منشیوں، مستوفیوں اور تنخواہ خور تحصیلداری کی لکھی ہوئی ہے۔ وہ ان ناقابل انکار عظیم کارناموں کے بجائے، امام حسین (علیہ السلام) کو (معاذ اللہ) ایک لاچار، تنہا، نحیف، اور پیاسے انسان کے طور پر متعارف کراتے ہیں، جن کے بچے پانی کی ایک گھونٹ کے محتاج ہیں، اور یوں وہ اس عظیم واقعے کے ایک چھوٹے سے واقعے میں تبدیل کرتے ہیں جس میں صرف جذباتیت اور ہمدردی کا عنصر ہی نمایاں ہے۔
امام جسین(ع) نے اپنے مقصد کی راہ میں پیاس ہی کو برداشت نہیں کیا بلکہ شہادت بھی قبول کی اور اگرچہ امام اور خاندان رسالت کو پیاسا رکھا گیا اور دشمن اسلام نے جنگ کے تمام عربی اور اسلامی قواعد اور عالمی ضوابط کو پامال کرکے ان پر پانی بند کر دیا اور اگرجہ یزیدی جبر کا یہ اقدام ہر انسان کے لئے صدمے اور دکھ اور تکلیف کا باعث ہے لیکن جس چیز نے حسین(ع) کو دکھ پہنچایا وہ دین کے حوالے سے حکام اور عوام کی کج فہمی ہے، کج فہمی اور انحراف دین و اسلام کے نام پر، اور حاکم جو اسلام کا متولی بنا تھا اور قتل کرتا تھا، بندروں اور کتوں سے کھیلتا تھا اور اعلانیہ فسق و فجور کا ارتکاب کرتا تھا اور مسلم عوام جو اسی حکمران کی پیروی کو دین داری سمجھتے تھے، یہ سب سے تکلیف دہ مسئلہ تھا حسین بن علی (علیہما اسلام) کے لئے۔
امام حسین(ع) نے مملکت اسلامی کی حکمرانی غصب کرنے والے حکمران کے سامنے کلمۃ الحق کا اظہار کیا تھا اور فرمایا تھا "مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرتا"، اور فرمایا تھا کہ "کیسے ہو سکتا ہے کہ میں ایسے شخص کی بیعت کروں کو فاسق و فاجر و اعلانیہ گناہ کرتا ہے"، تو ایسے حسین(ع) کو ایک ایسے پیاسے انسان کے طور پر متعارف کرانا، جو پانی طلب کرتا ہے اور منع کیا جاتا ہے اور پھر پیاسا شہید کیا جاتا ہے، آنجناب کی شان سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا امام معصوم تمام ادوار و اعصار کے انسانوں سے بالاتر نہیں ہے؟
خطیب و ذاکر و مداح کا واحد مقصد رلانا، نہیں ہونا چاہئے
اہل بیت(ع) کی مداحی اور ان کی شہادت پر مرثیہ سرائی بہت ممدوح اور قابل احترام ہے بشرطے کہ خطاب، ذکر، مدح اور نوحہ و مرثیہ معرفت اور بصیرت کا حامل ہو، چنانچہ خطیب و مداح کا واحد مقصد لوگوں سے آنسو وصول کرنا، نہیں ہونا چاہئے۔
خطیب، ذاکر اور مداح صحیح بیان و تشریح کے ساتھ تحریک عاشورا کے مقاصد اور آثار و ثمرات بیان کرنے کے ذمہ دار ہیں؛ تاریخ اسلام کے مصادر و منابع اور مصنفین و مؤلفین کی صحیح پہچان، صحیح مصادر تاریخ کا غائرانہ اور گہرا مطالعہ، تاریخی کرداروں کی صحیح پہچان، قرآن و تفسیر حدیث و روایت اور عقائد میں سمجھ بوجھ حاصل کرنا، اور صحیح مصادر کی روشنی میں حقائق اہل بیت(ع) کی تشریح، خطباء و ذاکرین کے فرائض میں شامل ہیں۔ معتبر کتابوں کے سوا، دوسری کتب کی رو سے منبر پر قبضہ کرکے عوام کو دھوکہ دینا ان فرائض کی خلاف ورزی ہے۔
یا اللہ بحق الحسین(ع) ہمیں حسینی اور زینبی بننے اور ان کے حقائق کا مروج و مبلغ اور آخرت میں ان کی بارگاہ میں سرخرو ہو کر پیش ہونے کی توفیق عطا فرما۔۔۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔
مرکزی خیال ارنا کی ایک تحریر " برای حسینی شدن گریه کافی نیست" سے ماخوذ ہؤا۔
ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110