اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سینئر پولیس افسر سوانترا کمار نے کہا کہ نرسینگھ انند گری قوم پرستوں کا بے باک حمایتی ہے اور ہندو پنڈیتوں کی جماعت کا رہنما ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کو ہفتے کو خاتون کے لیے توہین آمیز الفاظ کے استعمال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، اسی ہی روز اسے ہریدوار کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز تقریر اور تشدد کے مطالبے پر 14 روز کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا۔
سوانترا کمار کا کہنا تھا کہ پنڈت جسے بارہاں مجرم قرار دیا گیا ہےاس پر گزشتہ روز مختلف مذہبی گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے پر فرد جرم عائد کی گئی،بھارتی قوانین کے تحت ملزم کو مذکورہ الزام میں پانچ سال قید کی سزا کاٹنی ہوگی۔
گزشتہ سال دسمبر میں ہریدوار میں ایک اجلاس کے دوران اسی پنڈت نے دیگر مذہبی رہنماؤں کے ہمراہ مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے خود کو مسلح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
پولیس کی شکایت کے مطابق شمالی ہولی ٹاؤن میں یہ دوسرا شخص ہے جسے گزشتہ ہفتے بھارتی سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔
سال 2014 میں بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی جماعت قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے اور 2019 کے انتخابات میں دوبارہ فتح حاصل کرنے کے بعد بھارتی ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے بھارت کی ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی میں 14 فیصد اقلیت مسلمانوں کی ہے۔
نرسینگھ انند گری نے دھرم سنساد یا مذہبی پارلیمنٹ کے نام پر تین اجلاسوں کے انعقاد میں مدد کی جس کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز تقاریر میں اضافہ ہوا، خفیہ اجلاس تشدد کا واضح ثبوت ہیں۔
کانفرنس ی ویڈیوز میں متعدد ہندو پنڈتوں کو دیکھا جاسکتا ہے جن میں کچھ کے مودی کی سیاسی جماعت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہندؤں کو چاہیے کہ مسلمانوں کو قتل کردیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242