اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نائب ایرانی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے امور نے شامی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق سے ایک ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان سائنسی تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے تعلقات کی سطح کو طلباء کے تبادلے کی سطح سے بڑھانے سمیت سائنسی اور نئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، شامی وزیر "بسام بشیر ابراہیم" کی صدارت میں شام کی وزارت اعلی تعلیم اور سائنسی تحقیق کے اعلیٰ بورڈ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر برائے سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے امور "محمد سلیمانی" کی شرکت سے آج بروز پیر کو ایک مشترکہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر سلیمانی نے کہا کہ آج ہم شام کے وزیر سائنس کی میزبانی کر رہے ہیں تاکہ ہم ایران اور شام کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کو بہتر کر سکیں؛ دونوں ممالک کے رہنما ہمیشہ تمام شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سرگرم رہے ہیں اور ایرانی حکومت اور عوام ہمیشہ شام کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں؛ ایران کے عوام اور شام کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں اور تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں اور تمام شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیشہ پرعزم رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی حکومت اور عوام ہمیشہ شام کی حکومت اور عوام کے شانہ بشانہ رہے ہیں اور رہیں گے؛ ایرانی قوم دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے شر کو ختم کرنے کے لیے ہمیشہ شامی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔ انشاء اللہ خطے سے دہشت گردوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس خطے کے عوام مکمل آزادی کی حالت میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے اور اغیار کو خطے سے باہر نکالیں گے۔
سلیمانی نے کہا کہ ایران اور شام سائنس، تحقیق اور تعلیم کے میدان میں اچھے تعلقات رکھ سکتے ہیں اور اسے پہلے سے زیادہ وسعت دے سکتے ہیں۔ اس لیے شام کے وزیر سائنس اور ان کے ہمراہ وفد کی موجودگی سے تحقیق، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی پہلے سے زیادہ ہو گی۔
دراین اثنا بسام بشیر ابراہیم نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایران نینو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اعلی درجے پر ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس علاقے میں دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات ہوں گے۔ کیونکہ زراعت، صنعت اور صحت میں نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شام کی یونیورسٹیاں اور ان کے سربراہ ایران کا سفر کرنا چاہتے تھے، دمشق یونیورسٹی کے صدر اب ہمارے ساتھ آئے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کے ذریعے، ایران میں دیگر شامی یونیورسٹیوں کے سربراہوں کی موجودگی شرائط کی فراہمی ہوجائے گی۔
شامی وزیر سائنس نے کہا کہ ایران اور شام کی وزارت سائنس کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے جو 2017 تک نافذ تھا اور حالیہ برسوں میں اسے روک دیا گیا ہے۔ پہلے ہی خالی پن کا احساس ہے کہ ایران میں شام کے سفیر نے اسے دوبارہ عملی جامہ پہنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242