اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے اپنے لبنان دورے کے دوران بیروت میں مسلم علماء ایسوسی ایشن سے ملاقات اور گفتگو کی۔
آیت اللہ رمضانی نے مسلم علماء ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آپسی اتحاد اور بھائی چارہ ہمارے دینی اصول کا حصہ ہے لہذا ہماری تمام ملاقاتیں اور ہماری تمام گفتگو، آپ سے قلبی لگاؤ کی بنا پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مسلم علماء ایسوسی ایشن میں رکنیت حاصل کرنے کی جو شرط ولایت آپ نے رکھی ہے یہ میرے لیے ایک شاذ و نادر چیز ہے اور یہ شرط اس ایسوسی ایشن کے اراکین کے جذبہ مقاومت سے وجود میں آئی ہے۔ یہ شرط دوسروں کے لیے نمونہ عمل ہو سکتی ہے کہ وہ اس اتحاد پر توجہ کریں اور یہ اتحاد انہیں اقتدار اور قوت عطا کرے گا، جہاں بھی حاکمیت علماء کے پاس رہی ہے کامیابی حاصل ہوئی ہے، ورنہ حاکمیت اپنی شرعی حیثیت کھو دے گی۔ اسلام کے بارے میں دو غلط فہمیاں بعض دانشوروں اور انتہا پسندوں کی طرف سے پروان چڑھائی جا رہی ہیں، ایک سکولاریسم اور دین کو اہمیت نہ دینا اور دوسری انتہاپسندی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: سیکولارزم کا موجودہ دور لبرل اسلام کو متعارف کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلام کی بنیاد پانچ اصولوں پر ہے جن میں انسان کا خدا سے تعلق، انسان کا اپنی ذات سے تعلق، انسان کا انسان سے تعلق اور انسان کا ولایت سے تعلق ہے۔ لبرل اسلام، اسلام کو صرف انسان کے خدا سے تعلق اور انسان کے اپنے آپ سے تعلق کو درست سمجھتا ہے اور انسان کے انسان سے تعلق، انسان کے دوسری قوموں سے تعلق اور انسان کے ولایت سے تعلق کو رد کرتا ہے۔ امام باقر علیہ السلام نے ایک روایت میں فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور ولایت پر ہے۔ اگر ہم توجہ کریں تو نماز انسان کا خدا سے تعلق ہے، روزہ انسان کا اپنی ذات سے تعلق ہے، زکوٰۃ انسان کا دوسرے انسان سے تعلق ہے، حج انسان کا عالمی برادری سے تعلق ہے، اور ولایت انسان کا تعلق ولایت سے ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے لبرل اسلام کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس قسم کا اسلام صرف یہ چاہتا ہے کہ انسان صرف روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور انسان معاشرے کے ایک گوشے میں رہے، لبرل اسلام زکوٰۃ، حج اور ولایت جیسے مسائل کو جو انسان کو معاشرے میں داخل ہونے پر مجبور کرتے ہیں، غیر یقینی بناتا ہے۔ درحقیقت مغرب اسلام کو لبرل ازم کے ساتھ ملا کر اسلام میں انحراف پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "روشن خیال افراد سیکولر اور لبرل اسلام کو 'دین رحمت' سے تعبیر کرتے ہیں، جب کہ اگر ہمیں سامراج اور ظلم کا سامنا کرنا پڑے تو ہمیں مزاحمت کرنی چاہیے۔" ایک اور منحرف اسلام انتہا پسند اسلام ہے، جو اسلامو فوبیا کو فروغ دیتا ہے۔ لبرل اسلام اور انتہا پسند اسلام خالص محمدی اسلام کی تعلیمات اور تصورات کو تباہ کرنے کے لیے ایک ہی قینچی کے دو پارٹ ہیں۔ آیات و روایات کے مطابق ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 'اسلام رحمانیت' اور 'اسلام مزاحمت' دونوں موثر ثابت ہو سکتے ہیں، اسلام رحمانیت مقاومت اور مزاحمت کے بغیر لبرل اسلام ہے اور اسلام مزاحمت رحمت کے بغیر انتہاپسند اسلام ہے جو داعش اور القاعدہ کو جنم دیتا ہے۔
................
242