26 مئی 2021 - 12:40
حشد الشعبی اور عراق کی عبوری حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، گرین زون پر قبضہ کرنے کی تیاریاں؟!

عراق کے بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس اقدام کے نتیجے میں حشد الشعبی کی بعض فورسیں بغداد کے گرین زون پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کی رضاکار فورس حشد الشعبی کے کمانڈر کی گرفتار کے ساتھ عراق کے عبوری حکومت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ عراق کی سیکیورٹی فورسز نے امریکی فوج کے تعاون سے صوبہ الانبار میں حشد الشعبی کے کمانڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کی وجہ شامی سرزمین سے عراق میں امریکی فوجیوں کے غیرقانونی داخلے پر قاسم مصلح کا پابندی عائد کرنے پر اصرار تھا۔
عراق کے بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس اقدام کے نتیجے میں حشد الشعبی کی بعض فورسیں بغداد کے گرین زون پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔
صابرین نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ قاسم مصلح کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب "احمد ابو رغیف" کی سیکیورٹی فورس امریکی فوج کے تعاون سے بغداد کے علاقے "منطقہ الدورہ" میں مشترکہ فضائی کاروائی کر رہی تھی۔
اسلامی مزاحمت سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بعد مزاحمتی گروہوں کے کمانڈروں اور حشد الشعبی کے عہدیداروں کے درمیان گفتگو ہو چکی ہے اور عنقریب ابورغیف کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔
اسلامی مزاحمتی گروہ "اصحاب الکہف" نے اپنی آمادگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بغداد کے گرین زون میں عبوری حکومت کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کے افراد کے ساتھ مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔


* کیا یہ خبر جعلی ہے ؟!
الفرات نیوز نے اسی دوران حشد الشعبی تنظیم کے ایک رکن سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حشد الشعبی کی طرف منسوب بیان میں قاسم مصلح کی گرفتاری کی خبر کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ قاسم مصلح حشد الشعبی کے اہم ترین کمانڈر اور آستانہ مقدسہ حرم امام حسین (ع) کے قریبی افراد میں سے ایک ہیں۔ وہ عراق پر امریکی تسلط کے دوران ۲۰۰۳ سے ۲۰۱۱ تک بصرہ کی جیل میں امریکی دھشتگردوں کے ہاتھوں قید رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲