13 مارچ 2021 - 12:43
حضرت ابوطالب(ع) سیمینار کا عقائد و کلام کمیشن 1۔ موضوع: حضرت ابوطالب(ع) کی شخصیت کتاب "الکافی" کی روشنی میں؛ پیشکش: علی اکبر ذاکری

دینی علوم کے محقق جناب ذاکری نے کہا: ابوطالب(ع) نے رسول اکرم(ص) کی بہت زیادہ حمایت کی اور ان حمایتوں کا تذکرہ کتاب "الکافی" میں منقولہ حدیثوں کے ضمن میں آیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کے مطابق، "حضرت ابو طالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار" کے چوتھے کمیشن بعنوان " حضرت ابوطالب(ع) سیمینار کا عقائد و کلام کمیشن، کا اجلاس بروز بدھ، بمورخہ 10 مارچ 2021ء کو امام خمینی(رح) اعلی تعلیمی کمپلیکس کے شہید صدر آڈیٹوریم میں منعقد ہؤا۔
اجلاس کی صدارت حجت الاسلام و المسلمین صادق اخوان نے کی، حجت الاسلام والمسلمین رضا برنجکار ریفری تھے اور حجت الاسلام سید محمد رضا آل ایوب نے سیکریٹر کے فرائض انجام دیئے۔
حجت الاسلام و المسلمین علی اکبر ذاکری نے اس اجلاس کی ابتداء میں اپنا مقالہ بعنوان "حضرت ابوطالب(ع) کی شخصیت کتاب "الکافی" کی روشنی میں"، پیش کیا۔
انھوں نے حضرت ابوطالب(ع) کے حق میں ہونے والی بےمہریوں اور نامہربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ءئے کہا: جب ہم حضرت ابوطالب(ع) کے بارے میں غیرمنصف لکھاریوں کی کتابیں پڑھتے ہیں تو دل پر غم کا بوجھ پڑ جاتا ہے؛ ان کتابوں میں ایسی روایت سے استناد کیا جاتا ہے جس کے راوی امیرالمؤمنین علی(ع) کے دشمن ہیں۔  
انھوں نے کہا: مقالہ "حضرت ابوطالب(ع) کی شخصیت کتاب "الکافی" کی روشنی میں"، میں 16 حدیثوں کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں سے بعض حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ولادت سے قبل کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں؛ کچھ کا تعلق ام المؤمنین سیدہ خدیجہ(س) کے ساتھ آپ(ص) کی شادی اور حضرت ابوطالب(ع) کا خطبۂ نکاح پڑھنے سے ہے، اور آخری حصے کی احادیث ایمان ابوطالب(ع) کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔
جناب ذاکری نے کہا: رسول اللہ(ص) کی ولادت کی خبر سیدہ فاطمہ بنت اسد(س) نے ابوطالب(ع) کو دی اور حضرت ابوطالب(ع) نے یہ خبر سننے کے بعد سیدہ بنت اسد سے فرمایا: آج سے 30 سال بعد، حضرت محمد(ص) کا وصی آپ کے بطن سے پیدا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعثت سے بہت پہلے بھی، نہ صرف حضرت محمد(ص) کی رسالت اور امیرالمؤمنین(ع) کی وصایت خبریں خاندان بنی ہاشم میں بیان ہوتی تھی بلکہ حضرت ابوطالب(ع) کو مستقبل کا بھی علم تھا اور یہ کہ محمد(ص) آخری پیغمبر ہیں اور آپ(ص) کا جانشین ان کا فرزند ہے۔
انھوں نے رسول اللہ(ص) کے لئے نام منتخب کرنے کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حدیث کے مطابق، حضرت ابوطالب(ع) نے پیغمبر خدا(ص) کا نام رکھا اور آپ کی ولادت کے بعد، آپ کے لئے عقیقہ کیا اور عقیقہ کا گوشت اپنے رشتہ داروں کے درمیان بانٹ لیا۔
دینی علوم کے اس محقق نے کہا: ابوطالب(ع) کے بارے میں منقولہ بعض احادیث رسول اللہ(ص) کے طفولت کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک روایت کچھ یوں ہے کہ رسول اللہ(ص) کی طفولت کے ایام میں مکہ کے لوگ قحط کا شکار ہوئے اور وہ سب ابوطالب(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابوطالب(ع) کم عمر محمد(ص) کے ہمراہ خانہ کعبہ کے پاس آئے اور رسول اللہ(ص) نے دعا کی ۔۔۔ یا ابو طالب(ع) نے محمد(ص) کے واسطے اللہ سے بارش کی التجا کی ۔۔۔ جس کے بعد مکہ پر بہت ساری بارش برسی اور حضرت ابوطالب(ع) نے اسی مناسب سے قصیدۂ لامیہ کہا۔
انھوں نے کہا: حضرت ابوطالب(ع) حضرت محمد(ص) کے بچپن ہی سے جانتے تھے کہ آپ(ص) ایک عظیم شخصیت ۔۔۔ اور اللہ کے آخری پیغمبر ۔۔۔ ہیں؛ لیکن بعض متعصب قلم فروشوں نے حضرت ابوطالب(ع) کے بارے میں روایات نقل کرتے ہوئے حقائق کو چھپا دیا چنانچہ اس سلسلے میں زیادہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔
انھوں نے حضرت ابوطالب(ع) کی طرف سے حضرت رسول اکرم(ص) کی تجلیل و تحسین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت ابوطالب نے رسول اکرم(ص) کے لئے سیدہ خدیجہ(س) کا خطبۂ نکاح پڑھتے ہوئے رسول اللہ(ص) کی تجلیل و تحسین کی۔ حضرت ابوطالب(ع) نے رسول اکرم(ص) کی بہت زیادہ حمایت کی اور ان حمایتوں کا تذکرہ کتاب "الکافی" میں منقولہ حدیثوں کے ضمن میں آیا ہے۔
جناب ذاکری نے کہا: جب مشرکین نے رسول اکرم(ص) کی توہین کی اور آپ(ص) کو ایذاؤں کا نشانہ بنایا، حضرت ابوطالب(ع) غضبناک ہوئے تلوار اٹھا کر حضرت حمزہ(ع) کے ہمراہ، مشرکین کے پاس تشریف فرما ہوئے اور انہیں مار پیٹ کر سزا دی۔
انھوں نے کہا: حضرت ابوطالب(ع) نے پیغمبر اکرم(ع) کا دفاع کیا۔ کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت ابوطالب(ع) نے اپنا ایمان ظاہر کیوں نہیں کیا، جبکہ ہمیں جاننا چاہئے کہ بعض قریشی - جو اس زمانے میں رسول اللہ(ص) کا ساتھ دے رہے تھے - اس وقت مسلمان نہیں تھے اور اگر ابوطالب(ع) ایمان کا اعلان کرتے تھے تو قریش کے یہ لوگ رسول اللہ(ص) کی حمایت کے حوالے سے ابوطالب(ع) کا ساتھ چھوڑ جاتے؛ [اور پھر رسول اللہ(ص) کے بارے میں آپ کا موقف، شعب ابی طالب میں قریشیوں کے گھیرے میں رہنا اور دشمن کے ممکنہ حملوں سے رسول خدا(ص) کے تحفظ کے لئے راتوں کے وقت اپنے بیٹوں کو آپ کے بستر پر لٹانا، آپ کے اشعار اور نجاشی کے نام آپ کا خط، درحقیقت ایمان کا اعلان ہی تھا]۔
انھوں نے کہا: شعب ابی طالب میں حضرت ابوطالب(ع) کے تمام اقرباء اور رشتہ دار - بشمول مؤمن و کافر - قریش کے 3 سالہ محاصرے میں رہے؛ اور آپ کی طرف سے ایمان کا عدم اظہار، سبب ہؤا کہ مکہ کے بےشمار قریشی مشرکین بھی آپ کے ہمراہ شعب ابی طالب میں داخل ہوئے۔ حضرت ابوطالب(ع) نے شعب ابی طالب کے قضیے میں اعلان کیا تھا کہ اپنے آخری آدمی تک رسول اللہ(ص) کا دفاع کریں گے اور مشرکین کے ہاتھ آپ(ص) تک نہیں پہنچنے دیں گے۔
جناب ذاکری نے کہا: علامہ محمد بن یعقوب کلینی، نے اپنی کتاب [الکافی] میں حضرت ابوطالب(ع) کے بارے میں مختلف قسم کے شبہات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔
صدر اجلاس حجت الاسلام و المسلمین صادق اخوان نے کہا: عصر جاہلیت میں ایک رسم تھی جس کو "رسم جوار" کہا جاتا تھا اور ایک قانون کی حیثیت اختیار کی تھی۔ اس قانون کے مطابق، اگر کوئی سب سے بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا لیکن مشرکین میں سے کوئی اس کو "اپنے جوار" میں لے لیتا تھا تو دوسرے لوگ اس کو کچھ نہیں کہتے تھے۔ اور حضرت ابوطالب (علیہ السلام) بنی ہاشم کے سردار کی حیثیت سے - رسم جوار سے فائدہ اٹھا کر - رسول اللہ(ص) کو اپنے جوار میں قرار دیا تاکہ مشرکین رسول اکرم(ص) کے قتل کی سازشوں سے باز رہیں۔
انھوں نے کہا: ایمان ابوطالب(ع) میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے اور آپ کا ایمان نہایت اعلیٰ و ارفع ہے اور اعلٰی عِلِیین پر ہے۔ لیکن آج حضرت ابوطالب(ع) کے ایمان کے لئے نہایت قوی استدلال سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
حجت الاسلام و المسلمین "رضا برنجکار"، جو اس اجلاس میں مقالات کے ریفری کے طور پر شریک تھے، نے کہا: ائمۂ معصومین (علیہم السلام) کے کلام سے حضرت ابوطالب(ع) ثابت اور قاطع ہے اور یہ احادیث حضرت ابوطالب (علیہ السلام) کے ایمان کے بارے میں شبہات کا جواب فراہمی کرتی ہیں۔
انھوں نے کہا: یہ جو تاریخی روایات میں حضرت ابوطالب (علیہ السلام) کے اعلانیہ ایمان کا تذکرہ نہیں آیا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ اگر آپ نے ایمان کو آشکار کیا ہوتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی حمایت و دفاع کا اہتمام نہیں کرسکتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰