اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ برطانوی حکومت کے مفاد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے پر حملے، کی کمان یاسر الحبیب کے ہاتھ میں تھی
کچھ ہی عرصہ قبل شیرازی فرقے کے کچھ افراد نے داعشی دہشت گردوں کے طرز پر نقاب پہن کر برطانیہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی پشت پناہی میں،لندن میں واقع اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے پر حملہ کیا؛ اور حملے کی کمان یاسرالحبیب کے ہاتھ میں تھی۔
"مہنّد الشویلی"، فدک چینل کے اصلی افراد میں سے ایک اور یاسرالحبیب کا دست راست ہے جس نے ایک نشری پروگرام کے ضمن میں اعتراف کیا:
"میں برطانیہ میں رہتا ہوں، میں اس ملک کا مقروض ہوں، میں برطانیہ کا مرہون منت ہوں، کیوں؟ اس لئے کہ اس ملک نے میرے لئے اچھی اور خوشگوار زندگی کا امکان فراہم کیا ہے، مجھے گھر دیا ہے، اور کبھی کبھی جب بےروزگار ہوجاتا ہوں تو MI6 والے دوستوں سے رابطہ کرتا ہوں اور وہ مجھے مالی امداد دیتے ہیں: ہر ہفتے 700 پاؤنڈ!
میرے پورے کنبے کا ہر فرد الگ الگ تنخواہ لیتا ہے؛ بچوں کو تنخواہ دی جاتی ہے۔
ہمارے لئے تمام تر طبی خدمات مفت فراہم کی جاتی ہیں؛ چنانچہ میں ان کی طرف مائل ہوں اور حکومت برطانیہ کی طرف راغب ہوں، اور میں برطانیوں کی نسبت غیرت رکھتا ہوں، ان کے لئے مرنے کے لئے تیار ہوں، اور ان کے مورچے میں لڑتا ہوں"۔
بالفاظ دیگر، اس منحرف فرقے کی طرف سے اتنی صراحت اور وضاحت کے ساتھ انگریز کی غلامی اور ایم آئی سکس سے وابستگی کے اعترافات کا مقصد مکتب تشیّع میں فننہ انگیزی اور اختلاف و انتشار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ "وہ انگریز حکومت یا پھر ملکہ برطانیہ کی نسبت غیرت اور تعصب کا دعوی کرتے ہیں"۔
آخری بات:
جو برطانوی کسی زمانے میں ہندوستان اور عراق کے شیعوں کے درمیان مفت قمے اور زنجیریں تقسیم کرتے تھے اور انہیں کفن کے طور پر پہننے کے لئے سفید کپڑا دیتے تھے تا کہ ان پر خون گرے اور پھر ان کی خون میں لت پت تصویریں بنائی جائیں اور ماتمیوں کی صورتیں بھیانک نظر آئيں اور ان تصاویر کو یورپی اخبارات میں چھپوا کر شیعوں کو ایک خونخوار مکتب کے عنوان سے متعارف کروائیں، آج وہی برطانوی عزاداری کے مقدس اسلامی فریضے کی آڑ میں پرتشدد ترین اور نامعقول ترین اور خونریزترین روشوں کی کھلی اجازت دے رکھی ہے، انہیں مختلف چینلز دیئے ہیں جن کی تعداد 20 تک پہنچتی ہے لیکن ایک یا دو کے سوا دوسرے چینلز پر ان کے باضابطہ موقف کا اظہار نہیں ہوتا اور ان کا کام صرف اور صرف نفرت انگیزی اور فتنہ پھیلانا ہے۔ داعش کے عمائد دوسروں کے گلے کاٹ کر اسلام کو بدنام کرتے ہیں اور اس جماعت اور اس جیسے دوسری جماعتیں خودآزاری کے حربوں کی ترویج کرکے تشدد کو فروغ دے رہے ہیں اور لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ گویا مذہب شیعہ یہی ہے جو ان چینلز پر متعارف کرایا جارہا ہے تا کہ مغربی دنیا میں سنی اسلام کے ساتھ ساتھ شیعہ اسلام بھی مزید نہ پنپ سکے اور فروغ نہ پاسکے۔ اور اہم ترین ہدف یہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ولایت فقیہ اور مراجع تقلید ـ جو مذہب تشیع کے مروج اور حافظ و علمدار ہیں ـ کی بےحرمتی کو رائج کرکے یہودی ریاست اور ان کے سعودی چیلوں کا ہاتھ بٹا رہے ہیں تا کہ شیعہ مکتب ـ جو فکری اور منطقی عظمتوں کے ساتھ نجات امت کے سلسلے میں بھی اپنی استعداد ثابت کرچکا ہے اور اس وقت امت کی واحد امید ہے ـ کا چہرہ مسخ کیا جاسکے اور ساتھ ساتھ ان کے پڑوسی سنی آبادیوں کو ان کے خلاف اکسایا جاسکے۔
ایک اختتامی نکتہ:
کسی نے کسی وقت مجھ سے کہا کہ ان کے رسالے کے لئے "صہیونیت کی ڈھالیں" کے عنوان سے کچھ لکھوں تو میں نے کچھ سوچنے کے بعد ان کو صہیونیت کی شرمناک زندگی کے دوام کے اسباب بیان کرنا شروع کئے تو میرے دوست نے میری باتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے یہ نہيں سوچا تھا کہ اس موضوع پر لکھتے ہوئے ہمیں کن کن لوگوں کی دشمنیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن آپ کی بات سن کر میں اپنے ارادے کو ملتوی کرتا ہوں اور ہم اس موضوع پر کچھ شائع کرنے سے معذور ہیں"، تو نکتہ یہ ہے ہمارے کئی اعمال صہیونیت [یعنی جارح یہودیت] کی ہولناک، شرمناک اور تباہ کن سیاسی حیات کے دوام کا باعث بن سکتے ہیں؛ لہذا کچھ بھی کرتے ہوئے، کچھ بھی لکھتے ہوئے اور کچھ بھی بولتے ہوئے، کوئی فتوی دیتے ہوئے، کسی کی مخالفت کرتے ہوئے یا کسی کی حمایت کرتے ہوئے اور کچھ حقائق کا اظہار کرتے ہوئے اور کچھ حقائق کو چھپاتے ہوئے، یہ دیکھنا چاہئے کہ ہمارا یہ فعل، یہ تحریر، یہ کلام، یہ فتوی، یہ مخالفت یا یہ حمایت یا یہ اظہار یا کتمان، کہیں جارح یہودیت کے دوام کا سبب اور صہیونیت کی ڈھال تو نہیں ہے؟
آخر میں ایک مأثور شکوه یا استغاثہ باری تعالی کی بارگاہ میں:
*أَللّهُمَّ إِنَّا نَشْكُو إِلَيْكَ فَقْدَ نَبِيِّنَا صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ، وَغَيْبَةَ وَلِيِّنَا (إِمَامِنَا)، وَكَثْرَةَ عَدُوِّنَا، وَقِلَّةَ عَدَدِنَا، وَشِدَّةَ الْفِتَنِ بِنَا، وَتَظَاهُرَ الزَّمَانِ عَلَيْنَا، فَصَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَأَعِنَّا عَلَىٰ ذٰلِكَ بِفَتْحٍ مِنْكَ تُعَجِّلُهُ، وَبِضُرٍّ تَكْشِفُهُ، وَنَصْرٍ تُعِزُّهُ، وَسُلْطَانِ حَقٍّ تُظْهِرُهُ، وَرَحْمَةٍ مِنْكَ تُجَلِّلُنَاهَا، وَعَافِيَةٍ مِنْكَ تُلْبِسُنَاهَا، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ. (دعائے افتتاح سے اقتباس)
بار خدایا! ہم تیری برگاہ میں شکایت کرتے ہیں اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کے فقدان کی، اور اپنے سرپرست (اپنے امام) کے اوجھل ہوجانے کی، اور اپنے دشمنوں کی کثرت کی، اور اپنی عدد کی قلت کی، اور ہمارے اوپر فتنوں اور آزمائشوں کی شدت کی، اور زمانے کے حالات کے ہمارے اوپر غالب آنے کی، پس اے اللہ درود بھیج محمد اور خاندان محمد صلی اللہ علیہ و آلہ پر اور فتح عاجل کے ذریعے اور رنج و مشقت زائل کرنے کے ذریعے، اور حق و حقیقت کی سلطنت کے ذریعے جسے تو ظاہر فرمائے گا اور اپنی جانب کی رحمت کے ذریعے جو ہمیں اپنی آغوش میں لے لے، اور اپنی طرف کی ایسی امن و عافیت کے ذریعے جو ہمیں ڈھانپ دے، رحمت فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے مہربان"۔
*وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ*
*اَلَّلہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّل فَرَجُہُم*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲