21 جنوری 2020 - 05:07
تمام اسلامی ممالک ملکرامریکہ کی مخالفت کریں: سینیٹر رضا ربانی

جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت اور عراقی سرزمین کی خلاف ورزی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان کے سابق چیرمین سینٹ اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماسینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی پر ہوئے امریکی حملے کے بعد طاقت کے ایک نئے باب کا آغاز ہوچکا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے نئے سال کے آغاز ہی میں ایک اہم ایرانی کمانڈر کو عراق میں ڈرون حملے کے ذریعے شہید کرنے کا خود حکم دیکر خطے میں نئی کشیدگی کا اہتمام کیا ہے جس سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے ان کی سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کر کےعراق کی خود مختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی اور پورے خطے کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے یہ واضح طور پر ایک دہشت گردی کی کارروائی ہے امریکہ کے اس اقدام کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، فوجی مہم جوئی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ عراق کی خود مختاری، یو این چارٹر کا احترام اور علاقائی امن برقرار رکھنے کیلئے اقدامات ہونے چاہیئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو چاہیئے کہ عالمی سطح پرامریکہ کو قاسم سلیمانی کے قتل کا ذمہ دار قرار دلانے کیلئے قانونی اقدامات کرے۔ ایران اور دیگر اسلامی ممالک جن کے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں، ملکرامریکہ کی مخالفت کریں۔ اگر امریکہ کے اس اقدام کی مخالفت نہ کی گئی تو امریکہ اس طرح کے مزید اقدامات کرسکتا ہے۔

سینیٹر رضا ربانی میں یہ سمجھتا ہوں کہ خطے کی موجودہ صورتحال ہمارے لئے تو اور بھی زیادہ مشکلات کا باعث بن سکتی ہے اس لئے کہ اگر امریکہ اور ایران کے مابین باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوتا ہے تو ٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے اسی طرح ایران کے خلاف جنگی تعاون کی متقاضی ہوگی، جیسے نائن الیون کے بعد پاکستان کو افغان جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار سونپا گیا اور اس سے لاجسٹک سپورٹ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے تین فضائی اڈے بھی استعمال کئے گئے۔ اسی کے ردعمل میں پاکستان بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا اور اسے 70 ہزار سے زائد اپنے شہریوں کی قیمتی جانوں اور اربوں روپے کے مالی نقصانات اٹھانا پڑے۔ ہم آج بھی امریکی مفادات کی اس جنگ میں خود کو جھلسا رہے ہیں۔ اگر اب امریکہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑتا ہے تو وہ لامحالہ ایران کے خلاف ہم سے بلوچستان میں معاونت کا متقاضی ہوگا، جو ہمارے لئے زہر قاتل ثابت ہوسکتا ہے۔



/129