22 ستمبر 2013 - 20:30
ایران نے خطے کے ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون کے لئے اہم قدم اٹھائے ہیں

وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دہقانی نے کہا کہ ہم نے غلط فہمیاں دور کرنے اور اجنبیوں کی مداخلت روکنے کے لئے علاقے کے ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون کی طرف اہم قدم اٹھائے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دہقانی نے العالم کے پروگرام "مِن طهران" میں بات چیت کرتے ہوئے علاقے کے ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کے بارے میں کہا: ایک پڑوسی ملک کا امن و سلامتی تمام پڑوسیوں کا امن ہے اور اگر علاقے میں عدم استحکام ہو تو وہ سب کا گریباں پڑے گا۔ چنانچہ علاقے کے ممالک کو علاقائی امن کے حوالے سے مشترکہ فہم و ادراک تک پہنچنا چاہئے اور اسی کی بنیاد پر اجتماعی امن و سلامتی کی طرف قدم اٹھانا چاہئے جس کے لئے بعض غلط فہمیوں کو دور کرنا پڑے گا اور بیرونی مداخلت کا سد باب کرنا پڑے گا اور ان مسائل کو ختم کرنا پڑے گا جو غلط فہمی کے اسباب فراہم کرتے ہيں، تا کہ ممالک عقل و منطق کی بنیاد پر اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر صلاح مشورے کرسکیں  اور اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ علاقائی امن کے قیام کا سب سے بہترین راستہ ـ خاص طور پر سلامتی کے لحاظ سے ـ اجتماعی تعاون ہے۔ باہر سے آنے والی سلامتی ـ جس کی پشت پر اجنبی قوتیں ہوں ـ زيادہ دیر تک پائیدار نہيں رہتا اور سلامتی کو اپنے عزم کی بنیاد پر خلیج فارس کے ممالک کے درمیان تعامل اور مفاہمت کی فضا میں قائم کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا: ہم نے اسی بنیاد پر بعض رابطے کئے ہیں اور بعض اقدامات کا آغاز کیا ہے جنہیں پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے؛ پہلی ملاقات عمان کے وزیر خارجہ سے ہوئی اور اسی بنیاد پر ان سے بات ہوئی اور اسی ہفتے میں عراق کے وزیر دفاع ایران کے دورے پر آرہے ہیں۔  انھوں نے کہا: یہ کام سخت ضرور ہے لیکن ناممکن نہيں ہے اور ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب، امارات اور قطر کے ساتھ بھی اسی پروگرام کے تحت دوطرفہ رابطے ہونگے؛ یہ ملاقاتیں اور تبادلۂ افکار جتنا زیادہ ہوگا مفاہمت میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوگا۔ انھوں نے کہا: اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ممالک کے حکام ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کرتے تھے، اب آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کرنے کا وقت ہے اور مشترکہ مفادات کے حامل پہلو ہیں ان ہی کو زیر بحث لانے کا وقت ہے اور یہی وقت ہے کہ ہم اختلافات کو تقویت نہ پہنچائیں اور ان کو پھیکا کر دیں۔

..............................

/٭۔٭

ایران اور امریکہ کے مذاکرات کی شرطیں ایرانی وزیر دفاع کے زبانی