21 ستمبر 2013 - 20:30
قادسیہ دہشت گرد ٹولے "قادسیہ" کے سرغنے سمیت متعدد دہشت گردکمانڈر ہلاک

شام کی سرکاری افواج نے درعا اور دمشق کے نواح میں اپنی کاروائی میں درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے جن میں قادسیہ ٹولے کا سرغنہ "زیاد نصر" اور متعدد دوسرے کمانڈر بھی شامل ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شامی افواج نے ہفتے کے روز اپنی کاروائیوں کے دوران غوطہ شرقیہ میں واقع ان کے اڈوں میں، ہلاک کردیا ہے جن میں دو سنائپر بھی شامل ہیں۔ ان کاروائیوں میں سرکاری افواج نے ایک سرنگ کا سراغ لگا کر اس میں ذخیرہ کئے جانے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کو برآمد کرکے ضبط کیا ہے۔ برزہ کے علاقے میں واقع اس سرنگ میں بڑی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود اور کئی طیارہ شکن مشین گنتیں شامل ہیں۔ شام کی سرکاری خبر ایجنسی "سانا" نے رپورٹ دی ہے کہ انہیں برزہ کے علاقے میں "شبکہ التربویہ" کے قریب ایک 25 میٹر طویل سرنگ ملی ہے جس میں موجود کئی طیارہ شکن مشین گنوں کو تباہ کردیا گیا اور دوسری طرف سے فوج کے دوسرے دستوں نے خویر کے کے بجلی کے ادارے کے جنوب مشرق میں نیز حرستا میں مسجد صلاح الدین کے قریب دو سنائپروں کو ہلاک کردیا ہے۔ شامی افواج نے ایک کاروائی میں شبعا کے زرعی فارموں نیز دیر العصافیر کے علاقے میں درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے ہتھیاروں کو تباہ کردیا ہے۔ اس کاروائی میں دہشت گردوں کے دو سرغنے "سلیمان خطاب" اور "شادی عبدالرحمن" بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔ شامی افواج کے ایک دستے نے زملکا کے علاقے میں مسلح دہشت گردوں کے اڈے کو نشانہ بنا کر ان کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخیرے کو منہدم کرکے "محمد غنوم" نامی ایک دہشت گرد کو ہلاک کردیا ہے۔ دوما کے علاقے مزارع عالیہ میں بھی سرکاری دستوں نے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنا کر "الجیرودی" نامی دہشت گرد سمیت وہاں موجود تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔ اسی اثناء میں سرکاری دستوں نے غوطہ الشرقیہ میں واقع دیر سلیمان کی ریلوے پٹڑی کے کنارے کاروائی کرکے وہاں موجود اکثر دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے جن میں "عبدالسلام الضاہر اور خالد ابوالسل" بھی شامل ہیں۔ افواج نے حجیرہ اور الذبابیہ کے علاقوں میں بھی سرکاری افواج نے ایک دہشت گرد "علی الشروحی" کو ہلاک کردیا ہے نیز داریا کے علاقے میں بدنام دہشت گرد زیاد ابوطارق اور جمال ابو خالد سرکاری افواج کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔ یبرود میں جبہۃالنصرہ کے دو دہشت گرد مارے گئے ہیں اور القلیج کے علاقے نبع قرینہ میں سرکاری افواج نے 30 دہشت گردوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بیشتر دہشت گرد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان کے درمیان گروپ کمانڈر ہلال حقوق کی لاش بھی دکھائی دے رہی ہے۔ فوجی دستوں نے ریف درعا کے علاقے میں عثمان کے علاقے میں دہشت گردوں کا تعاقب کرکے ان میں متعدد کو ہلاک کردیا جن میں زياد نصر، خلدون جمال مصری، رستم زيدان مصری اور عماد سالم العوید بھی شام ہیں۔ شام کے سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز شام تک، اعزاز، باب الہوی، ریف حلب، الطیقہ، الرقہ اور دوسرے علاقوں میں شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا اور فریقین کے درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور اسی اثناء میں سرکاری افواج نے ریف حمص میں السلطانیہ، سلام شرقی اور سلام غربی پر مکمل کنٹرول حاصل کیا۔ ریف لاذقیہ کے علاقے بستان السمکہ میں بھی سرکاری افواج نے بڑی تعداد میں ہتھیار، گولہ بارود اور طبی ساز و سامان پر قبضہ کیا اور کئی مطلوبہ دہشت گردوں کو حراست میں لیا جبکہ ریف دمشق کے علاقے کے برزہ میں محلہ المسطاح میں مسلح دہشت گردوں کے آخری ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کیا۔ کاروائی میں شریک ایک شامی افواج کے ایک اعلی افسر نے العالم کو بتایا: ہم نے برزہ کے علاقے میں کئی خصوصی کاروائیاں کی اور دہشت گردوں کے زیر کنٹرول کئی علاقوں پر قابو پالیا اور برزہ کا علاقے میں مکمل امن بہت جلد قائم کیا جائے گا اور اس کے مکینوں کو اپنے گھروں میں واپس لایا جائے گا۔ فوجی ذرائع کے مطابق جنوبی علاقے میں الحسینیہ اور الذبابیہ کے علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور السبینہ نیز المیلیحیہ قصبے کے اطراف میں جھڑپیں جاری ہیں۔ شام کی سیاسی اور عسکری صورت حال کی بنا پر لگتا ہے کہ مسلح دہشت گردوں کو بند راستے کا سامنا ہے جس کی وجہ سے دہشت گرد ٹولے اپنے بیرونی آقاؤں کے اشارے پر خودکشی کررہے ہیں تاکہ جنیوا 2 کانفرنس کے انعقاد کو کھٹائی ڈالا جاسکے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭